جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد معدنی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا اور ملکی وسائل کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کھولنا ہے۔
ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ محض سکیورٹی معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معدنی وسائل پر دسترس حاصل کرنے کا مقصد بھی کارفرما دکھائی دیتا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ معاملہ صرف معدنی ذخائر تک محدود نہیں بلکہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کے ذریعے پاکستانی وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے اور امریکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر ان اقدامات کے بدلے حکمرانوں کو محدود مالی فوائد حاصل بھی ہوتے ہیں تو یہ قومی مفادات کی قیمت پر قابل قبول نہیں ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ان کی جماعت ایسی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرے گی اور دعویٰ کیا کہ چین اور روس سمیت بعض اہم ممالک کو بھی ان پیش رفتوں پر تحفظات ہیں۔