بلوچستان کے خاران اور تربت میں فائرنگ کے مختلف واقعات سے پولیس اہلکارسمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ پنجاب کے رہائشی کی لاش برآمدہوئی ہے۔
خاران کے علاقے کلان میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس کانسٹیبل خان غلام رسول ہلاک ہوگئے۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل خان غلام رسول بازار سے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں مسلح ڈکیتوں نے انہیں روک کر موٹرسائیکل چھیننے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر ملزمان نے ان پر فائرنگ کردی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔
زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر شیخ زید ہسپتال خاران منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ ریفر کردیا گیا، تاہم وہ راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات بھی خاران میں واپڈا کالونی کے قریب مسلح ڈکیتوں نے اشفاق احمد نامی شہری کو اسلحے کی نوک پر لوٹ لیا تھا۔
علاقے میں ڈکیتی کی مسلسل وارداتوں کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اسی طرح خاران کے علاقے پتکن سے مقامی انتظامیہ کو ایک شخص کی لاش ملی ہے، جسے ہلاک کرنے کے بعد لاش پھینک دیا گیا۔
انتظامیہ کے مطابق پتکن سے ملنے والی لاش ملتان کے رہائشی عتیق الرحمان کی ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص کو گذشتہ دنوں پتکن کے مقام پر مسلح افراد نے دوران ناکہ بندی حراست میں لیا تھا۔
ادھر تربت سے فائرنگ کے ایک واقعہ میں2 افراد ہلاک ہوگئے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تربت کی ڈاکٹر کالونی میں ایک گھر کے اندر مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک ہوگئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مسلح افراد کے درمیان باہمی چپقلش کے باعث پیش آیا۔
ہلاک ہونے والوں کی شناخت سرفراز ولد غلام سکنہ شاہی تمپ اور عامر ولد عبدالنبی سکنہ سریاب کوئٹہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
پولیس نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سرفراز عرف ملا ایک اشتہاری ملزم تھا جو پولیس کو قتل کے ایک مقدمے میں پہلے سے مطلوب تھا۔ ملا سرفراز کی لاش اہل خانہ کے حوالے کردیا گیا جب کہ عامر کی لاش کوئٹہ لے جایا جائے گا۔
واقعہ کے محرکات سامنے نہیں آسکے۔