جبری لاپتہ صغیر احمد اور اقرار احمد کی ہمشیرہ ہوں نسیدہ بلوچ نے کہا ہے کہ 11 جون 2025 کو اورماڑہ چیک پوسٹ کے قریب میرے بھائیوں، صغیر احمد اور اقرار احمد، کو پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔ آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔
آج میرے بھائیوں کی گمشدگی کو ایک سال، چار ماہ اور ایک دن گزر چکے ہیں، لیکن وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
میں نے انصاف کے حصول کے لیے ریاست کے ہر دروازے پر دستک دی۔ میں کمیشن کے پاس بھی گئی، لیکن تاحال مجھے وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ میں ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرتی ہوں، مگر ہر بار اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے۔ آج تک مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ میرے بھائی کہاں ہیں، کس حال میں ہیں، صغیر کہاں ہے اور اقرار کہاں ہے۔
آج میں بے بس ہو چکی ہوں۔ میں بار بار اپیل کر رہی ہوں، ریاست کے سامنے بھی اپنی فریاد لے کر آ رہی ہوں اور میڈیا کے ذریعے بھی اپنی آواز بلند کر رہی ہوں۔ میری ریاست سے بار بار یہی اپیل ہے کہ اگر میرے بھائیوں سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے، تو عدالتیں موجود ہیں۔ انہیں عدالتوں میں، بالخصوص اعلیٰ عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو سکے۔
میں ایک پاکستانی شہری ہوں اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتی ہوں۔ لیکن میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے بھائیوں کا قصور کیا ہے؟ انہیں اس طرح کیوں لاپتہ کیا گیا؟ اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے، تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ مجھے یہ جاننے کا حق ہے کہ میرے بھائیوں پر کیا الزام ہے اور وہ اس وقت کہاں اور کس حال میں ہیں۔
اگر میرے بھائیوں کو اسی ہفتے منظرِ عام پر نہیں لایا گیا یا بازیاب نہیں کیا گیا، تو میں ہائی کورٹ کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بھوک ہڑتالی کیمپ لگاؤں گی اور وہیں بیٹھوں گی۔
مجھے انصاف چاہیے، مجھے میرے بھائی چاہییں۔میں سول سوسائٹی، طلبہ تنظیموں اور تمام باشعور افراد سے اپیل کرتی ہوں کہ میری آواز بنیں، لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھائیں اور میرے بھائیوں، صغیر احمد اور اقرار احمد، کی بازیابی کے لیے میرا ساتھ دیں۔
میری آواز بنیں، میرے بھائیوں کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائیں اور مجھے انصاف دلانے میں میرا ساتھ دیں۔