بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ بیانات وپمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اور نام نہاد ترقیاتی منصوبوں کی آڑ میں جبری بے دخلی اور نقل مکانی کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ مستونگ، پسنی (شادی کور)، سردشت، قلات، شور پارود، نوشکی، چاغی، خاران، مند، دشت، منگچر اور مشکے سمیت متعدد علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کو ان کے آبائی گھروں سے زبردستی بے دخل کیا جا چکا ہے۔
پمفلٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ریاستی جبر محض افراد تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری آبادیوں کے خلاف ‘اجتماعی سزا’ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق سیکورٹی کارروائیوں کا جواز پیش کر کے مقامی لوگوں کو نوٹیفکیشنز کے ذریعے گھر خالی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد وہ کھلے آسمان تلے بے سرو سامان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ماہی گیروں کو سمندر سے، کسانوں کو زمینوں سے اور مالداروں کو چراگاہوں سے کاٹ دیا گیا ہے، جس سے ان کی نسلوں کی کمائی اور روایتی معیشت تباہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں سرگرم ڈیتھ اسکواڈز اور فورسز کی جانب سے سیاسی کارکنان، طلباء اور عام شہریوں کے خلاف جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کی جانب سے ‘ترقی’ اور ‘قومی سلامتی’ کے نام پر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان کا اصل مقصد زمین، وسائل اور آبادی پر نوآبادیاتی کنٹرول قائم کرنا ہے۔ گوادر کے ماہی گیروں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کس طرح ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مقامی آبادی کو ان کے حقِ فیصلہ اور روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے تمام مکاتبِ فکر اور باشعور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس خاموش نسل کشی اور جبری بے دخلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ پمفلٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ زمین، شناخت اور اجتماعی بقا کا دفاع ہر بلوچ کا فرض ہے، اور اس نوآبادیاتی جبر کے خلاف آواز بلند کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔