پسنی: مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے اہلخانہ کا احتجاجی مظاہرہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے اہلخانہ نے پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور مقتول پرویز مزار کی فوٹو اٹھا رکھے تھے۔

واضح رہے کہ مقتول پرویز مزار پیشے کے اعتبار سے ایک اسکول ٹیچر تھا جسے جبری لاپتہ کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

اہلخانہ کے مطابق پرویز مزار کو ذاتی ٹارچر سیل میں رکھنے کے بعد قتل کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرے میں شریک خواتین نےکیا کہ ایف آئی آر میں نامزد قاتلوں کو پناہ دینے کے بجائے پولیس کے حوالے کیا جائے اور مقتول کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔

مظاہرین نے کہا کہ ملکی ادارے اور فورسز ایسے قاتل اور شدت پسند عناصر کی بیخ کنی کریں جو اداروں اور فورسز کا نام استعمال کرکے عام شہریوں کو اغوا کرتے ہیں تشدد کا نشانہ بناتے اور بعد میں بیدردی سے قتل کرکے ویرانوں میں پھینک دیتے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے خواتین نے کہا کہ ایسے عناصر عام شہریوں کے دلوں میں فورسز اور اداروں کے لیے نفرت پیدا کررہے ہیں جس کی فوری روک تھام ضروری ہے۔

مقتول اسکول ٹیچر پرویز مزار کے بچوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف دلایا جائے میرے ابو کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

دریں اثنا، مقتول کی فیملی نے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر قاتل جو فورسز کے پاس ہیں ا±نہیں پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا تو وہ مکران کوسٹل ہائی وے کو پسنی زیرو پوائنٹ پر بند کردیں گے۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ مقتول ایک بے گناہ اسکول ٹیچر تھا اور اس کے قتل میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

احتجاج میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article