بلوچستان کے ضلع خاران اور کوئٹہ کو ملانے والی اہم شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران کارروائی کرتے ہوئے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔
یہ واقعہ برشونکی کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب وہ خاران میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔
حالیہ عرصے میں بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح قوتوں کے اثر و رسوخ، رسائی اور کنٹرول میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد بلوچستان کے بیشتر حصوں میں نام نہاد حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
شاہراہوں پر مسلح افراد کی نقل و حرکت اور اہم سرکاری حکام کی پکڑ دھڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی مشینری زمینی حقائق پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سول انتظامیہ کے متعدد افسران کو اس سے قبل بھی اغوا کیا جا چکا ہے، جنہیں بعد ازاں اس سخت شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ پاکستانی فوج کی ایما پر عوامی مفادات کو نقصان پہنچانے یا ریاستی عزائم کو آگے بڑھانے سے گریز کریں گے۔
آزادی پسند حلقوں اور زمینی حقائق کا مؤقف رہا ہے کہ جہاں جہاں فورسز اور ریاستی طاقت کا کام ہے، وہ خود سامنے آئیں اور براہِ راست مزاحمت کا سامنا کریں، جبکہ سول انتظامیہ کے افسران کو مورچہ بند جنگ یا عوامی مفادات کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
کمشنر رخشان ڈویژن کا یہ اغوا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے بلوچستان میں عسکری و انتظامی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔