قلات سے 19 سالہ طالبہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں لاپتہ، ایک نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب خواتین کو بھی باقاعدہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قلات سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ایف ایس سی کی طالبہ لائبا ستار دختر عبدالستار کو 29 مارچ 2026 کی شب نو بجے کے قریب حراست میں لے کر جبری گمشدہ کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو جبری لاپتہ کیا گیا ہے جن کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

دوسری جانب، جبری گمشدگی کا شکار بننے والا ایک اور نوجوان یاسر ولد قادر بخش، جو کہ آواران کے علاقے میانی قلات مشکائی کا رہائشی تھا، طویل جبری اسیری کے بعد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گیا ہے۔

یاد رہے کہ یاسر کو رواں سال 2 فروری 2026 کو جبری گمشدہ کیا گیا تھا، جو طویل ترین اذیت گاہوں میں کڑے تکالیف جھیلنے کے بعد بالآخر 6 اکتوبر 2026 کو کراچی سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا۔

بلوچ حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھر میں خواتین اور نوجوانوں کو ماورائے عدالت اور ماورائے آئین نشانہ بنانے کا مقصد بلوچ معاشرے کو نفسیاتی دباؤ میں لانا اور اجتماعی سزا دینا ہے، جس کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں پر فوری آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article