حکومت بلوچستان نے بلوچستان بھر سے ٹی ٹی پی کے 6 اور مسلح تنظیم کے 2 کمانڈروں سمیت 2 خواتین بمباروں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے ۔
کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عمران شوکت نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان بھرمیں انٹیلی جنس بیسڈ کومبنگ آپریشن کے دوران ٹی ٹی پی کے 6، خواتین خودکش بمبار2 اور 2 مسلح تنظیم کے کمانڈروں کو گرفتار کیا ہے۔
اس کے علاوہ 90 گرفتار عسکریت پسند ڈیٹیکٹشن سینٹر میں موجود ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔ حکومت نے 16 قوانین پاس کئے 17 نئے محکمے وجود میں لائی ہے جس کی وجہ سے بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
وزیرا علیٰ بلوچستان کے معاون اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے بتایا کہ پولیس قانون نافذ کرنے والے ادارے اور فورسز بلوچستان بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ کومبنگ آپریشن کررہی ہے جس میں بڑی تعداد میں عسکریت پسند مارے گئے اور متعدد عسکریت پسندوں نے حکومت اور ریاست کے سامنے سرنڈر کیا ہے ۔ان کارروائیوں کے دوران شعبان اور کھڈ کوچہ سے مسلح تنظیم کے 2 کمانڈروں کو جبکہ 6 ٹی ٹی پی کے 6 عسکریت پسندوں کے علاوہ 2 خواتین خودکش بمباروں کو گرفتار کیا ہے اور 90 گرفتار عسکریت پسند ڈیٹیکٹشن سینٹر میں موجود ہیں جن سے تفتیش جاری ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہورہی ہے اور وہاں پر ان کے کیسز کی سماعت بھی جاری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے دروازے پاکستان کے قانون ، ریاست کو ماننے والوں کیلئے ہمیشہ کھلے ہیں اور ریاست نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو موقع دیا ہے جو منفی سرگرمیوں اور دہشت گردی کو چھوڑ کر ریاست اور قانون کو مان کر خوشگوار زندگی گزارنا چاہتے ہیں موقع دیا ہے جس طرح رضا کارانہ طور پر ریاست کے سامنے سرنڈر ہونے والے پنجگور کے رہائشی شہاب نے بھی فیس بک آئی ڈی سے مسلح تنظیم کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور پھر بلوچ لبریشن آرمی کے کیمپ میں ہمسایہ ملک جاکر تربیت حاصل کی اور اب وہ خود سرنڈر ہوکر ریاست اور پاکستان کے قانون کو مان کر خوشگوار زندگی گزارنا چاہتا ہے جس کو ریاست نے موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری کررہی ہے کہ وہ نوجوانوں کو موقع دے رہی ہے کہ وہ سرنڈر کرکے خوشگوار زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا کہ پہاڑوں پر جو نوجوان مارے گئے ہیں یا مشکل حالات میں ہیں وہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں ان نوجوانوں کو لا حاصل جنگ میں دھکیلا گیا ہے اور ایسے بھٹکے ہوئے یا ورغلا کر پہاڑوں پر لے جایا گیا ہے ان نوجوانوں کیلئے حکومت نے مختلف پروگرام شروع کئے ہیں وہ نوجوان جو سرنڈر کرنا چاہتے ہیں اپنے خاندان ، علاقے کے سیاسی نمائندوں ، ضلعی انتظامی آفیسران پولیس کے ذریعے سرنڈر کرسکتے ہیں حکومت انہیں موقع فراہم کررہی ہے۔
انہوں نے درعویٰ کیا کہ سی ٹی ڈی سیکورٹی فروسز ، فرنٹیئر کور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اگست کے مہینے میں جب تھریٹ الرٹ بہت شدت اختیار کر گیا تھا اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بناءپر 2 عسکریت پسندوں نیاز جتوئی اور حبیب الرحمن سکنہ کردگاپ کو گرفتار کیا اور تھریٹ الرٹ کو کم کیا اداروں نے ہیروف تھری کے منصوبے کو بھی ناکام بنایا۔
اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کہا کہ بلوچستان میں کومبنگ آئی بی اوز کے تحت سی ٹی ڈی اور سیکورٹی فورسز نے 2 خواتین خودکش بمبار ، ٹی ٹی پی کے 6 عسکریت پسندوں اور 2 کمانڈروں کو بھی گرفتار کیا اور متعدد لوگوں نے ان کارروائیوں کے دوران حکومت اور ریاست کے سامنے سرنڈر ہوکر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی نیاز جتوئی اور حبیب الرحمن ہیروف تھری کے تحت 14 اگست کو کوئٹہ میں عسکریت پسندی کے منصوبے بناکر دھماکے کرنے تھے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پکڑ کر ان کے قبضے چاغی کوئٹہ لایا جانے والا اسلحہ اور دیگر مواد جس میں دستی بم ، ایل ایم جیز اور دیگر بارودی مواد شامل تھا برآمد کرلیا اور ان ٹرانسپورٹروں کی بھی نشاندہی کرکے مذکورہ کوچوں کو قبضے میں لے لیا۔
جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ دو سال کے دوران 16 نئے قوانین بنائے اور 17 محکمے وجود میں لائے گئے جس میں حکومت کابینہ پارلیمنٹ انتظامیہ اور تمام ادارے ایک پیج پر متحد ہوکر کام کررہے ہیں۔ اس وقت گرفتار 90 دہشت گرد ڈیٹکیٹشن سینٹر میں کیسز کا سامنا کرنا کررہے ہیں ان کی بحالی کیلئے بھی کام کیا جارہا ہے۔ جس طرح پہلے بھی خدیجہ بلوچ اور دیگر واپس لاکر ان کی ریہبلیٹیشن کرکے ان کے اہلخانہ کے حوالے کیا گیا ہے ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں ریاست کے خلاف استعمال کیاجارہا ہے ان کارروائیوں میں غیر قانونی مقیم 11لاکھ افراد کو واپس بھیجا گیا اور 50 ہزار کارروائیاں کی گئیں جس میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ذریعے اسلحہ کی برآمدگی کیلئے مہم چلائی گئی جس میں نیاز جتوئی اور حبیب الرحمن پکڑے گئے یہ مہم آئندہ بھی جاری ہے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت نے کہا ہے کہ سی ٹی ڈی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر بلوچستان میں 3300 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرکے 300 سے زائد عسکریت پسندوں کو گرفتار کرکے اور سینکڑوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا ،وزیر اعلیٰ بلوچستان روزانہ کی بنیاد پر ٹیرارزم کے حوالے سے بریفنگ لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے استعداد کار کو بڑھانے اور انہیں جس سامان کی ضرورت تھی وہ پوری کی گئی جس کی وجہ سے سی ٹی ڈی سمیت پولیس اور دیگر اداروں محکموں کے لوگوں اور شہریوں کو نشانہ بناکر ملکی املاک اور انفراسٹکچر کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جس میں سی ٹی ڈی نے موثر کردار ادا کیا ہے اورعسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں ہمارے 2 جوانوں کو ہلاک کیاگیا اور ہزار سے زائد پولیس کے آفیسران اور جوان ہلاک ہوچکے ہیں ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور اداروں کے حوالوں سے صوبہ خیبر پختونخوا سے موازنہ کیا جارہا ہے جبکہ بلوچستان میں جس طرح سی ٹی ڈی اور دیگر فورسز کام کررہی ہے جو صوبائی ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے خلاف وفاق کے ساتھ ملکر اقدامات اٹھارہے ہیں یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
اس موقع پر مبینہ سرنڈر کرنے اور گرفتار ہونے والے شہاب، نیاز جتوئی اور حبیب الرحمن کے ویڈیو بیان بھی چلائے گئے۔