بلوچ وومن فورم نے قلات سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ایف ایس سی کی طالبہ لائبا ستار کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈز کی کارروائی قرار دیا ہے۔
فورم کے مطابق لائبا ستار کو رواں سال 29 مارچ 2026 کی رات کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جن کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حبیبہ سے لے کر نسرینہ، ماہ جبین اور اب لائبا ستار تک، لاپتہ ہونے والی بلوچ خواتین کے نام ایک گہرے اور خطرناک انسانی حقوق کے بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ خواتین کی جبری گمشدگیوں نے نہ صرف خاندانوں کو خوف اور صدمے میں مبتلا کر رکھا ہے بلکہ یہ ذاتی آزادی، وقار اور قانون کی حکمرانی کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لاپتہ خواتین کے لواحقین کو طویل بے یقینی اور ذہنی اذیت سے دوچار کیا جا رہا ہے۔
بلوچ وومن فورم نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لائبا ستار کے ٹھکانے کا فوری انکشاف کیا جائے اور ان کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ تمام لاپتہ بلوچ خواتین کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سنگین بحران کا نوٹس لیں اور بلوچ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انصاف اور حقیقت کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، اور جبری گمشدگیوں کے اس قبیح فعل کو کبھی بھی معمول کا حصہ نہیں بننے دیا جائے گا۔