جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ جاری، کامران کے لواحقین کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کا جبری گمشدگیوں کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ کو 6390 دن مکمل ہوگئے۔

اس موقع پر جبری لاپتہ کامران خان کے والد عزیراللہ اور بھائی نے کیمپ میں شرکت کرکے ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

لواحقین کے مطابق، کامران خان کو یکم اپریل 2026 کو کلی کشمیر آباد، کوئٹہ سے ملکی اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ان کے بارے میں تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ کامران کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کامران سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے۔ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے جبری گمشدگیوں اور لاپتہ بلوچ افراد کے ماورائے عدالت قتل کے مکمل خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article