بلوچ عورت،محاذ آزادی کا ہمراہ دار | رامین بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
37 Min Read

قسط : 2

گذشتہ سے پیوستہ

الجزائر کی آزادی کی جدوجہد کے دوران سویڈن کا ایک صحافی ایک فرانسیسی حراستی کیمپ کا دورہ کرتا ہے، جہاں ہزاروں الجزائری باشندوں کو قید کیا گیا تھا۔ اپنے تاثرات میں وہ لکھتا ہے کہ اس کیمپ میں ایک سات سالہ بچہ بھی تھا۔ اس کے جسم پر لوہے کے تار سے تشدد کیے جانے کے گہرے نشانات تھے۔ فرانسیسی فوجیوں نے اس بستی پر حملے کے دوران اس کی ماں کے ساتھ بدفعلی کی تھی، جبکہ اس کے باپ اور بھائی کو قتل کر دیا گیا تھا۔صحافی نے جب اس بچے سے پوچھا کہ تمہاری سب سے بڑی آرزو کیا ہے، تو بچے نے جواب دیا:”میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اگر کوئی قابض فرانسیسی فوجی میرے ہاتھ لگے تو میں اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں۔”

اس بچے کے جواب کو محض ایک بچے کے غصے یا انتقام کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس پیچھے صرف جذبات نہیں بلکہ وہ درد، وہ چیخ، وہ آواز مزاحمت موجودہے ، جس کے سامنے اس کا بچپن، اس کا گھر، اس کا خاندان اور اس کی انسانی حرمت ایک نوآبادیاتی تشدد کے ہاتھوں مسخ کر دی گئی ہو۔ ظلم صرف جسم کونہیں سہتا، نفسیاتی اور روحانی زخم جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں او ر یہ زخم انسان کی یادداشت اور اعصاب میں اتر جاتے ہیں ۔ وہ نسلوں کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں، ظلم جبر انسان کو بہت کچھ سکھاتاہے، اور جب انسان سے اس کی عزت، گھر، خاندان اور زمین چھین لی جائے تو اس کے اندر پیدا ہونے والا غصہ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں رہتا، بلکہ اس کے وجود اور آزادی کے سوال سے جڑ جاتا ہے۔

یہی سوال بلوچ سماج کے سامنے بھی کھڑا ہے۔نصف صدی سے زائد عرصے میں کتنے بلوچ باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کی لاشیں مسخ کی گئیں؟ کتنے جسموں کے ٹکڑے کیے گئے؟ کتنے چہروں پر تیزاب ڈال کر ان کی شناخت تک مٹا دی گئی؟ کتنے ہزاروں فرزندانِ وطن جبری گمشدگی کا نشانہ بنے؟ کتنی بلوچ بہنوں کو اغوا کیا گیا، ان کی عصمت اور عزت کو پامال کیا گیا، اور پھر ان کو جبری گمشدگی کا نشانہ بناکر ان کامیڈیا ٹرائل کیا گیا اور بلوچ تحریک آزادی کے خلاف کتنی تضحیک آمیز مہمات چلایا گیا، کتنے بہنوں کی آنکھیں نکال کر ان کی لاش پھینکی گئی کتنے تضحیک آمیز مہمات سے ان بہنوں کی کردار کشی کی گئی، اور کتنے بہنوں کی جمہوری جدوجہداور پر امن آوازوں کو خوش آمدید کرنے کے بجائے کچلا گیا؟ اور کتنوں پر کٹھ پتلی عدالتوں میں مقدمہ چلایا گیا؟ اور کتنوں کو زندانوں میں سلاسل کے پیچھے عمر قید کی سزا سنائی گئیں؟کتنے شفیق اور مہربان سرپرستوں کو لاوارث قبرستانوں میں بے گور و کفن دفن کر دیا گیا؟

تو پھر استعماری کمینگی کو سامنے رکھتے ہوئے کیا ایک بلوچ بیٹی ان واقعات کو بھلا سکتی ہے؟کیا ایک بیوہ اپنے شوہر کی یاد کو اپنی زندگی سے نکال سکتی ہے؟کیا ایک ماں اپنے بیٹے کی گمشدگی، اس کی لاش کی بے حرمتی یا اس کے انتظار میں گزرنے والی راتوں کو اپنے حافظے سے مٹا سکتی ہے؟تو پھر ایک بلوچ عورت سے کوئی استعمار یا اس کے دلال یہ توقع کیسے رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہتھیار نہ اٹھائیں؟ اس لئے کے وہ عورت ہے؟

اس کے سامنے مذہبی فتووں کے درجنوں دستاویزات رکھے جائیں، سینکڑوں قسم کے پروپیگنڈے اور بیانیے تراشے جائیں کہ عورت لڑ نہیں سکتی، تاکہ قابض اپنی لوٹ مار، ڈاکہ زنی اور مجرمانہ جارحیت جاری رکھ سکے، نسل کشی کرے اور اجتماعی سزا دے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل عورت کیوں نہیں لڑ سکتی؟دنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں میں عورتوں نے لڑائیاں لڑی ہیں، جنگی تنظیموں کی قیادت کی ہے، عسکری محاذوں پر رکنیت لی ہے، اپنے جنگی ساتھیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور انہیں کمک و رسد پہنچائی ہے۔یہ خود بلوچ تاریخ کا بھی حصہ ہے۔ بلوچ تاریخِ بعید میں خواتین نے جنگوں کی قیادت کی ہے۔ کمبرانی دورِ حکومت میں میر احمد خان اول کی بہن مائی بیبو نے بلوچ ریاست کی افواج کی قیادت کی، جبکہ مغربی بلوچستان میں جنرل ڈائر کے خلاف لڑنے والی گل بی بی نامی خاتون بھی لشکر کی سالار تھی اور کیا ایک ایسا مقبوضہ سماج، جس نے نسل در نسل یہ درد برداشت کیا ہو، محض یہ کہہ دینے سے اپنی قومی یادداشت سے اس تلخی اور ان سانحات کو نکال کر بھول سکتا ہے؟یادداشت صرف ماضی نہیں ہوتی؛ یادداشت حال کی تشکیل کرتی ہے۔ یادداشت مستقبل کی تشکیل کرتی ہے۔

بلوچ کا مسئلہ محض محرومی کا سوال نہیں۔محرومی بھی غلامی کے بھیانک آسیب سے جنم لیتی ہے۔، محرومی کا حل فوری اور عملی نوعیت میں آزادی کا سوال بنتاہے۔اور کسی بھی سماجی تعمیر نو سے محرومیوں سے جان خلاصی نہیں ہوتی۔یہ مسئلہ صرف اعداد و شمار اور الفاظ کے ہیر پھیر اور جلسوں میں تھیسس دینے سے حل نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ انسانی تجربے کا سوال ہے۔

استعمار اور استعمار کے مسلط کردہ جرائم کے خاتمہ کے لے مزاحمت کی مختلف صورتیں تاریخ میں سامنے آتی رہی ہیں ، اور جوابی تشدد ان ہی میں ایک شکل رہاہے اور بعض آزادی کی تحریکوں میں اسے استعمار کے لے ناگزیر سمجھا گیاہے۔ آج ہم ایک نوآبادیاتی زندگی کے رحم کرم پر گھٹ گھٹ کے جی رہے ہیں کیا ہماری تکالیف اور ہمارے عزابوں کا مداوا اس وحشیانہ نظام کرسکتا ہے ۔ اگر دیکھا جائے کہ حمل کے دوران خون کی کمی اور غذائی قلت کا کرب سہنے والی بلوچ عورت، زچگی کے دوران مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں جانے والی ماں، لاکھوں محرومیوں کے درمیان پلنے والا بچہ، بھوک اور کم خوراکی سے مرنے والا انسان، بنیادی طبی سہولیات سے محروم خاندان کیا یہ سب صرف اعداد ہیں؟نہیں۔ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے۔ایک ماں ہے۔ایک بچہ ہے۔ایک گھر ہے۔ایک نام ہے۔ایک زندگی ہے۔

جب بلوچ مسلسل یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کے پاس قدرتی وسائل ہیں، زرعی زمین ہے، سمندر ہے، معدنیات ہیں، مگر اس کے باوجود ان کی ایک بڑی آبادی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت اور بنیادی سہولیات کی کمی میں زندگی گزار رہی ہے، تو مسئلہ محض غربت کا نہیں رہتا۔ یہ ، ملکیت، اختیار اور آزادی کا رہتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں محرومی کا تجربہ آزادی کے سوال سے جڑتا ہے۔

اگر کسی قوم کو اپنی زمین، وسائل، معیشت اور سیاسی فیصلوں پر حقیقی اختیار حاصل نہ ہو تو محض یہ کہنا کہ اسے کچھ معاشی سہولتیں فراہم کر دی جائیں، مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ کیونکہ انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا؛ وہ اختیار، آزادی عزت، شناخت اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق سے بھی جیتا ہے۔ایک غلام کو آرام دہ کرسی دے دی جائے، اس کے سامنے سونے کی اینٹیں رکھ دی جائیں، اس کے ہاتھ میں ہیرے جواہرات دے دیے جائیں، مگر اگر اسے یہ اختیار نہ ہو کہ وہ اپنی زندگی، اپنی زمین اور اپنے مستقبل کے بارے میں خود فیصلہ کر سکے، تو کیا اس کی مصنوعی محرومی ختم ہو جاتی ہے؟

اور یہاں بلوچ قومی سوال محض غربت اور روزگار کا سوال نہیں رہتا۔ اگر بلوچ نوجوان اپنی محرومی کو صرف روزگار کی کمی کے طور پر دیکھے گا تو مسئلہ معاشی اصلاح تک محدود ہو جائے گا۔ لیکن اگر وہ اسے زمین، وسائل، اختیار، شناخت اور سیاسی مستقبل کے سوال کے طور پر دیکھتا ہے تو اس کی نوعیت بنیادی طور پر بدل جاتی ہے۔ اس حق کو محض معاشی پیکیج، چند ملازمتوں، کسی ترقیاتی منصوبے یا وقتی مراعات سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ جس انسان سے اس کے گھر کا اختیار چھین لیا جائے، اسے گھر کی دیواریں خوب صورت کر کے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
جس قوم سے اس کی زمین پر فیصلہ کرنے کا حق چھین لیا جائے، اسے چند مراعات دے کر اس بنیادی سوال سے دور نہیں کیا جا سکتا کہ مالک کون ہے؟

یہی وجہ ہے کہ آج کا بلوچ نوجوان، آج کی بلوچ عورت، آج کا بلوچ بیٹا اور بیٹی اگر اپنی آزادی کے سوال کو محض معاشی مفاد کے ترازو میں تولنے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے پیچھے ایک گہری تاریخی اور نفسیاتی منطق موجود ہے۔انہیں معلوم ہے کہ ہیروں اور جواہرات کی قیمت کیا ہے، سونے کی قیمت کیا ہے، سمندر کی قیمت کیا ہے، زمین کی قیمت کیا ہے۔لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین صرف ایک معاشی شے یا ایک جغرافیہ نہیں ہوتی۔زمین یادداشت ہے۔زمین شناخت ہے۔زمین تاریخ ہے۔زمین گھر ہے۔اسی لیے اگر کس باشعور، باغیرت بلوچ کو ایک آرام دہ کرسی پر بٹھا کر اس کے سامنے ہیرے، جواہرات اور سونے کی اینٹیں رکھ دی جائیں، تب بھی آزادی کا مطالبہ ختم نہیں ہوگا۔ کیونکہ سوال یہ نہیں کہ اسے کیا دیا جا رہا ہے؛ سوال یہ ہے کہ اس کے پاس اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار کتنا ہے۔

وہ صرف دولت کا مالک نہیں بننا چاہتا؛ وہ اپنی زمین کا مالک بننا چاہتا ہے۔وہ صرف وسائل سے فائدہ نہیں چاہتا؛ وہ اپنے وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق چاہتا ہے۔وہ صرف روزگار نہیں چاہتا؛ وہ ایسا مستقبل چاہتا ہے جس کی سمت کے تعین میں اس کی اپنی آزادی ہو۔

قابض طاقت اکثر مقبوضہ قوم کو آسائش، ترقی، مراعات اور بہتر مستقبل کی زبان میں مخاطب کرتی ہے۔ وہ اسے تعلیم کے مواقع کا خواب دکھاتی ہے، یورپ اور آکسفورڈ کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کی لالچ دیتی ہے، روزگار، ترقی اور معاشی خوش حالی کے وعدے کرتی ہے۔ یوں وہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ شاید اس کے پاس مقبوضہ قوم کے لے وہ سب کچھ ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: مقبوضہ قوم قابض سے پوچھ سکتی ہے: تم کون ہو؟تم ایک آبادکار ہو، ایک حملہ آور ہو، ایک ڈکیت ہو؛ پھر تم مجھے کیا دے سکتے ہو؟تم کون ہو جو میری تقدیر اور قسمت پر فیصلہ کرنے والا بن بیٹھے ہو؟ تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ تم میری زمین، میرے وسائل، میری سیاست اور میرے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرو؟ تم میری آزادی سلب کرو، میرے وسائل کا استحصال کرو، میری زندگی کو اپنے مفادات کے تابع کرو، اور پھر اسی استحصال کے ایک حصے کو میرے سامنے مراعات کے طور پر پیش کرو؟

یہاں اصل سوال مراعات کا نہیں، اختیار اور آزادی کا ہے۔ بھیک میں دیئے گئے تعلیم آزادی کا متبادل نہیں۔ استحصالی ترقی خوشحالی کا متبادل نہیں۔مراعات آزادی کا متبادل نہیں۔میں آپ سے عطیہ، خیرات نہیں مانگ رہا، آزادی مانگ رہاہوں، تم میرے بیانیہ کو کیوں آلودہ کررہے ہو، کیون میرے نظریہ کو مسخ کررہے ہو؟ کیون میری جنگ آزادی کو پراکسی وار اور دہشت گردی قرار دے رہے ہو۔کیون میرے وطن کے جنگجو خواتین کے کردار پر کیچڑ اچھال رہے ہو؟ حالانکہ دہشت گردی کا اطلاق تم پر ہوتاہے، میں تو مقامی ہوں ایک باہر سے آنے والا آبادکار میرا مسیحا، میرا ہمدرد نہیں ہوسکتا البتہ وہ میرے لئے ایک جلاد ہوسکتا ہے ۔

متنازعہ اور مقبوضہ خطہ میں مسئلہ اس نوجوان کا نہیں جو آکسفورڈ جانا چاہتا ہے، نہ اس تعلیم کا جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مسئلہ اس استعماری حربہ کا ہے جس میں تعلیم اور مراعات کو آزادی کے فقدان کا متبادل بنا دیا جائے۔ایک بلوچ نوجوان آکسفورڈ میں پڑھ سکتا ہے، دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں علم حاصل کر سکتا ہے، فلسفہ پڑھ سکتا ہے، سیاست پڑھ سکتا ہے، قانون پڑھ سکتا ہے؛ لیکن اگر وہ اپنے آزادی کو گروی رکھ کر اپنے مستقبل کو قابض کے ہاتھوں حوالہ کرتا ہے تو اس کی تعلیم آزادی کی متبادل نہیں ۔آج کا پڑھا لکھا نوجوان پہاڑوں میں ہیں۔ آج کا قانوں دان جنگی محاذ پر ہے، آج کا انجینیئر لڑرہاہے۔ آج کا گولڈ میڈلسٹ آزادی کی جنگ لڑ رہاہے، شاری کون تھا، کیا تعلیم یافتہ نہیں تھی، زرینہ بلوچ یونیورسٹی کا طالبہ نہیں تھی آج کے بلوچ عورت انہی یونیورسٹیوں کے پڑھی لکھی فلسفی، دانشور، ڈاکٹر ہیں جو جنگ آزادی کا باضابطہ حصہ دار بن چکی ہیں، اور اسی علم نے اس ک فکر کے جوہر میں یہ شدت پیدا کی ہے کہ میں اپنے وطن کا دفاعی جنگ کیوں نہیں کر سکتا؟

یہی وہ شعوری تبدیلی ہے جس سے قابض طاقت سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتی ہے۔ کیونکہ مقبوضہ کو صرف یہ لالچ دینا کافی نہیں کہ اسے کیا مل رہاہے یا مستقبل میں ممکنہ طور پر کیا مل سکتاہے، اب وہ سوچنے پر شعوری طور مجبور ہوچکاہے کہ اس سے کیا چھینا گیا ہے۔اور جب کسی قوم کا فرد اس فرق کو سمجھ لیتا ہے تو مراعات کی چمک اپنی جگہ کھو دیتی ہے۔اس کے درمیان مسیحا اور جلاد کا فرق واضح ہوجاتاہے۔جو شخص آپ کے گھر میں داخل ہو، آپ کے اختیار کو ختم کرے، آپ کے وسائل پر قبضہ کرے، آپ کی آزادی سلب کرے اور پھر آپ کو چند مراعات دے کر خود کو آپ کا نجات دہندہ پیش کرے، اسے صرف اس کے دیے ہوئے تحفوں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ اسے جواب دینا ہوگا، ہر محاذ پر، ہر سنگر پر، ہر پلیٹ فارم پر۔

اگر کوئی طاقت آپ کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ کرے، آپ کے اختیار کو سلب کرے اور آپ کے وسائل کا وحشیانہ استحصال کرے، تو اسے مسیحا سمجھنے کے بجائے اس کے کردار کو اس کے مجرمانہ اعمال کی روشنی میں سمجھنا چاہیے،کیونکہ مسیحا وہ نہیں جو قید میں موجود انسان کو کبھی کبھار سہولت فراہم کرے۔مسیحا وہ نہیں جو مظلوم کو مراعات دے کر اس کی محکومی کو قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرے۔’آ ج کا بلوچ جہد کار اسے بلا جھجک بلا خوف کہ رہاہے کہ ’مجھے تمہاری دی ہوئی آسائش نہیں، اپنے مستقبل پر اپنا اختیار چاہیے۔ مجھے تمہاری سرپرستی نہیں، اپنی آزادی چاہیے۔ مجھے اپنے وسائل میں تمہاری مہربانی نہیں، اپنے حق پر اپنا اختیار چاہیے۔”کیونکہ جس ہاتھ نے زنجیر باندھی ہو، اسی ہاتھ سے ملنے والی روٹی پیٹ تو بھر سکتی ہے، مگر زنجیر کو آزادی کا نام نہیں دے سکتی۔ کیونکہ اگر میری زندگی، میری زمین اور میرے مستقبل کا فیصلہ میں خود نہیں کر سکتا، تو پھر مجھے حاصل ہونے والی آسائش آخر کس آزادی کا نام ہے؟

اصل متن بلوچ عورت کی آزادی کے ساتھ ہمراہہی کا ہے۔ یہ سوال آج کا پیدا کردہ نہیں؛ تقریباً دو دہائی قبل ڈاکٹر اللہ نذر نے اسے جس سیاسی اور فکری تناظر میں اٹھایا تھا، اس کی معنویت آج پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔ اس سوال کی اہمیت اس لیے نہیں کہ عورت کو پہلی بار جنگ کے میدان میں دیکھا جا رہا ہے، بلکہ اس لیے کہ اب وہ مخاطب عورت خود تاریخ کے عمل میں داخل ہو چکی ہے؛ وہ جنگ کو باہر سے دیکھنے والی، اس کے نتائج کی منتظر یا کسی مرد مزاحمت کار کی پشت پر کھڑی خاموش قوت نہیں رہی، بلکہ خود جنگ کے عمل کا حصہ ہے۔

یہاں بنیادی مسئلہ عورت کی جنگ میں شرکت کا نہیں، بلکہ اس شرکت کی تاریخی اور سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے کا ہے۔ کسی قومی تحریک میں عورت کی موجودگی کو اگر محض ضمنی، ثانوی یا معاون کردار سمجھا جائے تو دراصل عورت کو تاریخ کے فعال وجود سے محروم کیا جاتا ہے۔ قومی آزادی کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک قوم کے نصف وجود کو اس کی جدوجہد کے مرکز میں تسلیم نہ کیا جائے۔

عورت کو صرف ماں، بہن، بیوی، شہید کی وارث، اسیر کی راہ دیکھنے والے، یا کسی مرد مزاحمت کار کے پیچھے قائم ایک خاموش قوت سمجھنا اس کے تاریخی وجود کو محدود کرنا ہے۔ یہ تعریف عورت کو ایک رشتہ بنا دیتی ہے، ایک فاعل نہیں۔ وہ ماں ہے تو کسی کی ماں، بہن ہے تو کسی کی بہن، تو کسی کی بیوی، کسی شہید کی وارث ہے، لیکن اس تصور میں عورت خود کہاں ہے؟ اس کی اپنی تاریخ کہاں ہے؟ اس کا اپنا فیصلہ، اس کی اپنی سیاسی شعوری حرکت، اس کی اپنی قربانی کہاں ہے؟

استعمار انسان کو صرف زمین سے بے دخل نہیں کرتا؛ وہ اس کی تاریخی حیثیت کو بھی مسخ کرتا ہے۔ وہ محکوم کو اس کی اپنی نگاہ میں بھی ایک ایسا وجود بنانے کی کوشش کرتا ہے جو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو۔ استعمار کی لغت میں انسان پہلے سے متعین خانوں میں تقسیم ہوتا ہے: مرد، عورت، حاکم، محکوم، فاتح، مفتوح، مرکز اور حاشیہ۔ اس تقسیم کے اندر محکوم عورت پر ایک اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک طرف استعماری طاقت کے جبر کا سامنا کرتی ہے اور دوسری طرف سماج کے اندر موجود پدر سری ساختوں سے بھی نبردآزما ہوتی ہے۔لیکن بلوچ عورت کو صرف اسی دوہرے جبر کی اسیر سمجھ لینا بھی اس کی تاریخی ماہیت کو محدود کرنا ہوگا۔

بلوچ تاریخ کے تناظر میں بلوچ عورت محض پدر سری ساخت کی اسیر عورت نہیں؛ وہ ایک ایسی تاریخی ہستی ہے جو اپنے سماج، اپنی سرزمین اور اپنی قومی تقدیر کے سوال سے براہِ راست متصل ہے۔ اگر وہ قوم کا جزو ہے تو قومی آزادی کی جدوجہد میں اس کی حیثیت بھی جزوی نہیں ہو سکتی۔ قوم کا وجود مشترک ہے تو آزادی کی ذمہ داری بھی مشترک ہے۔

یہاں عورت کی جنگ میں شمولیت کو محض اس بنیاد پر اہم نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس سے تحریک کی طاقت بڑھتی ہے۔ اس سے زیادہ بنیادی بات یہ ہے کہ عورت کی شرکت خود آزادی کے مفہوم کو تبدیل کرتی ہے۔ جب عورت میدان میں آتی ہے تو آزادی صرف زمین کی آزادی نہیں رہتی؛ وہ قوم کی آزادی کا سوال بن جاتی ہے۔ اور جب عورت اپنے وجود، ارادے اور شعور کے ساتھ تاریخ میں داخل ہوتی ہے تو وہ نہ صرف استعمار کے قبضہ کو چیلنج کرتی ہے بلکہ ان تمام ساختوں کو بھی چیلنج کرتی ہے جو اسے خاموشی، انتظار اور تابع داری کے کردار میں قید رکھنا چاہتی ہیں۔

اسی لیے عورت کی شرکت کو مدد کہنا ناکافی ہے۔ مدد ہمیشہ کسی دوسرے مرکز کے گرد گردش کرتی ہے؛ فاعلیت اپنا مرکز خود پیدا کرتی ہے۔ عورت اگر صرف مرد کی جنگ میں مددگار ہے تو جنگ کا مرکز اب بھی مرد ہی ہے۔ لیکن اگر عورت خود آزادی کی سیاسی اور تاریخی جدوجہد کی فاعل تو پھر جنگ کی معنویت ہی بدل جاتی ہے۔ اس صورت میں عورت کسی مرد کے مقصد کو آگے نہیں بڑھا رہی ہوتی، بلکہ اپنے وجود کی آزادی اور قوم آزادی کے ایک مشترک تاریخی عمل میں شریک ہوتی ہے۔

بلوچ عورت کی جنگ میں شرکت کو کسی قومی تحریک کا ضمنی واقعہ سمجھنا فکری طور پر ایک غلطی ہے۔ یہ شرکت خود اس بات کا اظہار ہے کہ قومی آزادی کا تصور اپنے اندر ایک نئی انسانی معنویت پیدا کر رہا ہے۔ عورت جب خاموشی سے باہر آتی ہے تو وہ صرف ایک سماجی کردار ترک نہیں کرتی؛ وہ اس خاموشی کی پوری سیاسی ساخت کو توڑتی ہے جس میں اسے صدیوں سے رکھا گیا ہے۔

اور یہاں جنگ کا مفہوم بھی بدلتا ہے۔جنگ صرف بندوق اٹھانے کا نام نہیں۔ جنگ شعور کی بھی ہوتی ہے، خوف کے خلاف بھی، خاموشی کے خلاف بھی، فراموشی کے خلاف بھی۔ جو عورت اپنے وجود کو تاریخ کے سامنے پیش کرتی ہے، وہ اس لمحے سے ہی استعمار کے اس تصور کو چیلنج کرتی ہے جو اسے غیر سیاسی، غیر تاریخی اور محض نجی زندگی تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ اس معنی میں عورت کی مزاحمت میدانِ جنگ سے کہیں وسیع ہے؛ وہ سماج کی اس ساخت سے بھی برسرِ پیکار ہے جو اسے صرف کسی مرد کی شناخت کے ذریعے پہچاننے کی عادی ہے۔

لہٰذا بلوچ عورت کو صرف شہید کی وارث کہنا کافی نہیں۔ وہ خود تاریخ کی وارث بھی ہے اور تاریخ کی خالق بھی۔ اسے صرف اسیر کی منتظر کہنا اس کے وجود کو انتظار میں منجمد کر دینا ہے۔ اسے صرف ماں کہنا اس کے سیاسی وجود کو مادری رشتے میں تحلیل کرنا ہے۔ اسے صرف بیوی کہنا اسے کسی دوسرے انسان کی شناخت میں جذب کر دینا ہے۔ اور اسے صرف مزاحمت کار مرد کے پیچھے کھڑی قوت کہنا اس کی اپنی فاعلیت سے انکار ہے۔ عورت کسی کے پیچھے کھڑی خاموش قوت نہیں؛ وہ خود تاریخ کے اندر کھڑی ایک متحرک قوت ہے۔ عورت کی شرکت کو محض علامتی سطح پر نہیں بلکہ اس کی مکمل سیاسی، انسانی اور تاریخی معنویت کے ساتھ سمجھا جائے۔ کیونکہ عورت کو جنگ میں شامل کرنا اور عورت کو جنگ کا صاحبِ فاعل تسلیم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ پہلی صورت میں عورت کو تحریک کی ضرورت ہوتی ہے؛ دوسری صورت میں تحریک عورت کے تاریخی وجود کو تسلیم کرتی ہے۔

آزادی کا کوئی بھی تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک انسان اپنی آزادی کا موضوع خود نہ بن جائے۔ بلوچ عورت بھی اسی اصول کے تحت محض آزادی کی مخاطب نہیں، آزادی کی فاعل ہے۔ وہ کسی مستقبل کے وعدے کی منتظر نہیں کہ کبھی آزادی آئے گی اور تب اس کا سوال اٹھایا جائے گا۔ اس کی موجودگی خود اس بات کا اعلان ہے کہ آزادی کا عمل ابھی، اسی لمحے، انسانی وجود کے اندر جاری ہے۔اور شاید یہی اس سوال کی سب سے بنیادی فلسفیانہ معنویت ہے:اگر عورت قوم کا جزو ہے تو جنگِ آزادی میں اس کی شرکت ضمنی نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ قوم کے وجود میں شامل ہے تو آزادی کے فیصلے میں بھی شامل ہوگی۔ اور اگر وہ آزادی کے فیصلے میں شامل ہے تو وہ محض جنگ کی شریک نہیں، بلکہ جنگ کی صاحبِ فاعل ہے۔

عورتوں کی سیاسی شرکت کوئی نیا یا غیر معمولی تصور نہیں۔ انسانی تاریخ میں آزادی کی تحریکوں، انقلابات، اور سیاسی جمہوری جدوجہد کے مختلف ادوار پر نظر ڈالیں تو عورت بارہا سیاسی و مسلح عمل کے مرکز میں نظر آتی ہے۔، کبھی احتجاج کی قیادت کرتی ہے، کبھی مزاحمت کا چہرہ بنتی ہے اور بعض تاریخی حالات میں مسلح جدوجہد کا حصہ بھی بنتی ہے۔ اس لیے عورت کی سیاسی شرکت کو کسی غیر معمولی واقعے یا وقتی ضرورت کے طور پر دیکھنا تاریخ کے وسیع تجربے کو نظر انداز کرنا ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ عورت تحریک اور سیاست میں کیوں داخل ہوتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے سیاست اور تحریک سے باہر رکھنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی رہی ہے؟

روزا لکسمبرگ اس کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ انہوں نے سیاسی نظریے، مزدور تحریک اور انقلابی مباحث میں محض ایک عورت کی حیثیت سے حصہ نہیں لیا بلکہ اپنے عہد کے بنیادی سیاسی سوالات پر فکری مداخلت کی۔ ان کی اہمیت اس بات میں تھی کہ انہوں نے سیاست کو محض اقتدار حاصل کرنے کا عمل نہیں سمجھا بلکہ عوامی شعور، اجتماعی عمل اور انقلاب کے باہمی تعلق کے طور پر دیکھا۔ یہاں عورت سیاسی عمل کی تابع نہیں بلکہ سیاسی فکر کی تشکیل کرنے والی قوت بن جاتی ہے۔

اسی طرح سیمون دی بووا کا کام عورت کی سیاسی اور سماجی حیثیت کے سوال کو ایک مختلف سطح پر لے جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی معروف کتاب The Second Sex میں اس بات کا جائزہ لیا کہ عورت کی سماجی حیثیت کس طرح تاریخی، ثقافتی اور سماجی تصورات کے ذریعے تشکیل پاتی ہے۔ ان کے کام نے اس سوال کو بنیادی اہمیت دی کہ عورت کے بارے میں قائم تصورات میں سے کون سے انسانی تجربے کی پیچیدگیوں سے پیدا ہوتے ہیں اور کون سے سماجی طاقت کے ڈھانچوں کے ذریعے تشکیل دیے جاتے ہیں۔

اینگ سان سوچی نے میانمار کی سیاست میں ایک نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی زندگی اس وسیع تر حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عورت کی سیاسی موجودگی مختلف معاشروں اور مختلف سیاسی نظاموں میں مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہے۔ اسی طرح لکشمی سہگل نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے دوران انڈین نیشنل آرمی کی خواتین کی رجمنٹ کی قیادت کی۔ یہاں عورت ایک منظم سیاسی اور عسکری عمل کی قیادت کرنے والی فاعل کے طور پر سامنے آتی ہے۔

فلسطینی مزاحمتی تاریخ میں لیلا خالد کا کردار بھی اسی بحث کے ایک پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ وہ فلسطینی مسلح تحریک سے وابستہ ایک معروف کردار بنیں۔ ان کی موجودگی اس بات کی مثال ہے کہ قومی تنازعات اور مسلح سیاسی جدوجہد کے حالات میں بھی عورت نے محض متاثرہ فریق یا تماشائی کی حیثیت قبول نہیں کی بلکہ خود سیاسی عمل کے اندر ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

یہاں کسی مخصوص تحریک یا شخصیت کی سیاسی حکمتِ عملی سے اتفاق یا اختلاف بنیادی مسئلہ نہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو سیاسی فاعل تسلیم کرنے کی تاریخی حقیقت کو تسلیم کیا جائے۔ تاریخ کا مطالعہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ عورت کو ہمیشہ مظلوم، ماں، بیوی یا متاثرہ وجود کے طور پر دیکھا جائے اور اس کے سیاسی فیصلے، نظریاتی کردار اور اجتماعی عمل کو ثانوی سمجھا جائے۔

الجزائر کی فرانسیسی نوآبادیاتی قبضہ کے خلاف جدوجہد اس حوالے سے ایک اہم تاریخی تجربہ ہے۔ الجزائر کی خواتین نے مختلف ادوار میں سیاسی، عسکری، تنظیمی اور دیگر کردار ادا کیے۔ ان کرداروں کو صرف کسی ایک سرگرمی یا ایک مخصوص شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عورت کبھی پیغام رسانی اور تنظیم میں موجود تھی، کبھی شہری مزاحمت میں، کبھی سیاسی سرگرمی میں اور بعض حالات میں مسلح جدوجہد میں بھی شامل ہوئی۔

نوآبادیاتی نظام جب کسی قوم کو محکوم بناتا ہے تو وہ صرف مردوں کو محکوم نہیں بناتا۔ استعمار پورے سماج کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ اس لیے مزاحمت بھی سماج کے مختلف حصوں سے پیدا ہوتی ہے۔ عورت جب استعمار کے خلاف اٹھتی ہے تو وہ محض کسی مرد کی جنگ میں شامل نہیں ہوتی؛ بلکہ اپنی قومی جنگ میں شعوری طورپر شریک ہوتی ہے ۔

ویتنام کی آزادی اور جنگی تاریخ میں بھی خواتین نے سیاسی تنظیم، مزاحمت، طبی خدمات، رسد اور دیگر شعبوں میں مختلف کردار ادا کیے۔ جنگ ایک پورے سماج کو متحرک کرتی ہے اور اسی لیے اس کے اندر سیاسی، سماجی، طبی، تنظیمی اور معاشی سطحوں پر مختلف النوع کردار پیدا ہوتے ہیں۔

یہی بات لاطینی امریکہ کی مختلف تحریکوں پر بھی صادق آتی ہے۔ وہاں خواتین نے آمرانہ حکومتوں کے خلاف احتجاج، انسانی حقوق کی جدوجہد اور جمہوری تبدیلی کے مطالبات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعض تحریکوں میں ان کی جدوجہد کا مرکز سیاسی آزادی تھا، بعض میں انسانی حقوق، بعض میں ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت۔ لیکن ان تمام تجربات کے اندر ایک مشترک حقیقت موجود رہی: عورت نے سیاست کو صرف دیکھنے کا عمل نہیں سمجھا؛ اس نے سیاست کو اپنے عمل کا میدان بنایا۔

کرد سیاسی اور مسلح تحریکوں کی تاریخ میں بھی خواتین کی سیاسی تنظیم، نظریاتی بحث، سماجی تحریکوں اور بعض مسلح تنظیموں میں شرکت مختلف صورتوں میں سامنے آئی ہے۔ یہاں بھی عورت کو صرف کسی مرد مزاحمت کار کی رشتہ دار یا پشت پناہ قوت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہ تنظیمی ڈھانچوں، نظریاتی مباحث اور سیاسی جدوجہد میں اپنی مخصوص موجودگی رکھتی رہی ہے۔

؛ ویتنام، فلسطین، لاطینی امریکہ اور کرد سیاسی تحریکوں کے تاریخی حالات بھی ایک دوسرے سے یکساں نہیں۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود ایک بنیادی تسلسل موجود ہے: عورت تاریخ کے عمل سے باہر نہیں رہی۔اصل مسئلہ یہی ہے۔

عورت کی سیاسی شرکت کو کسی ایک نظریے، کسی ایک تحریک یا کسی ایک خطے کی خصوصیت سمجھنا تاریخ کو محدود کرنا ہے۔ مختلف معاشروں میں عورت نے مختلف وجوہات، مختلف حالات اور مختلف سیاسی تصورات کے تحت جدوجہد میں حصہ لیا۔ کہیں اس کا کردار قومی آزادی سے جڑا، کہیں طبقاتی جدوجہد سے، کہیں جمہوریت سے، کہیں انسانی حقوق سے اور کہیں نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف مزاحمت سے۔ لیکن ہر جگہ اس شرکت نے عورت اور سیاست کے درمیان قائم اس مصنوعی فاصلے کو توڑا جس کے مطابق سیاست مرد کا میدان اور عورت کا کردار صرف گھر تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ اگر عورت سماج کا نصف حصہ ہے تو سماج کی آزادی میں اس کی شرکت ثانوی کیسے ہو سکتی ہے؟۔ عورت کو قوم کا حصہ ماننا اور پھر قومی جدوجہد میں اسے محض معاون سمجھنا ایک داخلی تضاد ہے۔ اسی طرح عورت کی قربانی کو تسلیم کرنا مگر اس کی سیاسی فاعلیت کو تسلیم نہ کرنا بھی ایک تضاد ہے۔ اگر عورت ظلم کا تجربہ کرتی ہے تو وہ ظلم کے خلاف فیصلہ کرنے کا حق بھی رکھتی ہے۔ اگر وہ جنگ کے نتائج بھگتتی ہے تو جنگ اور امن کے فیصلے میں اس کی آواز بھی بنیادی ہونی چاہیے۔

اس معنٰی میں دنیا کی مختلف تحریکوں کا تجربہ ایک بنیادی سبق دیتا ہے: عورت کی سیاسی شرکت کوئی استثنا نہیں، تاریخ کا حصہ ہے۔ اور جہاں عورت نے تاریخ میں اپنا کردار ادا کیا ہے، وہاں اس نے صرف تحریک کو قوت نہیں دی بلکہ خود سیاست کے معنی کو بھی وسعت دی ہے۔

لہٰذا بلوچ عورت کی سیاسی اور قومی جدوجہد کو بھی کسی غیر معمولی یا ثانوی واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اسے تاریخ کے اسی وسیع تسلسل میں سمجھنا ہوگا جہاں عورت نے مختلف زمانوں اور مختلف جغرافیوں میں اپنے وجود کو محض سماجی رشتے کے طور پر نہیں بلکہ سیاسی فاعلیت کے طور پر منوایا ہے۔کیونکہ عورت جب تاریخ میں داخل ہوتی ہے تو وہ صرف ایک کردار کا اضافہ نہیں کرتی؛ وہ تاریخ کے لکھے جانے کے طریقے کو بدل دیتی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔

٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article