بلوچستان کے ساحلی شہر اور ضلع گوادر کے تحصیل پسنی میں اسکول ٹیچر پرویز ولد مزار کے اغوا کے بعد قتل کا مقدمہ تھانہ سٹی پسنی میں پاکستانی فوج کے زیر سرپرستی چلنے والے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے پانچ ارکان کے خلاف درج کرلیا گیاہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ مقتول کے بہنوئی مولداد ولد ناصر کی مدعیت میں 14 اکتوبر 2026 کو درج کیا گیا جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 364 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ 13 اکتوبر کو دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے وہ مدرسہ خالد بن ولید کے قریب مین روڈ پر موجود تھا کہ اس کا بہنوئی پرویز موٹرسائیکل پر گھر جا رہا تھا۔ اس دوران کرولا گاڑی پر سوار پانچ مسلح افراد اسلحے کے زور پر پرویز کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی کو 14 اکتوبر کو صبح تقریباً 11 بجے سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی کہ پرویز کی لاش کلی بلک کے علاقے میں ملی ہے۔ اطلاع پر وہ آر ایچ سی پسنی پہنچا جہاں اس نے لاش کی شناخت کی۔ مدعی کے مطابق مقتول کے جسم پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔
مقدمے میں شاہ بخش ولد سردار عزیز، مسلم حاصل ولد حاصل خان، محمد جمیل ولد محمد شریف، سعید احمد ولد علی احمد اور بالاچ کو نامزد کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کا تعلق ریاستی ڈیتھ اسکواڈز سے ہے، جو قتل و غارت گری سمیت متعدد سماجی برائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی سرپرستی میں مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔
مدعی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا کہ مقتول کے رشتہ داروں کے کالعدم تنظیم سے مبینہ تعلق کے باعث کچھ عرصہ قبل شاہ بخش کے بھائی کو قتل کیا گیا تھا جبکہ شاہ بخش نے اپنے بھائی کے چہلم کے موقع پر پرویز کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔