پہلی قسط:
میکسم گورکی نے ایک بار درست کہا تھا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر انقلابات نامکمل رہتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی، سماجی یا گوریلا تحریک میں خواتین کی شرکت کے ساتھ ان کی سیاسی بصیرت، جنگی و عسکری معلومات، تجربات، فکری صلاحیتوں اور عملی کردار کو بھی اسی سنجیدگی سے تسلیم کرنا ضروری ہے جس طرح مردوں کی جدوجہد اور تجربات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ عورت بھی مرد کی طرح کسی بھی تحریک کی ایک فعال، متحرک اور مؤثر اکائی ہوتی ہے، جو اپنی فکری و عملی صلاحیتوں کے ذریعے تحریک کے مقاصد اور اس کے میکنزم کی تشکیل میں حصہ لیتی ہے۔
عورت اور مرد کے درمیان حیاتیاتی ساخت، جسمانی خصوصیات اور ہارمونز کی تبدیلیوں سے متعلق فرق اپنی جگہ ایک سائنسی حقیقت ہے، اور یہ تضادات کائنات کی ہر شے میں موجود ہیں۔ کائنات ان اضداد کے انضمام سے حرکت و تغیر میں رہتی ہے۔ لیکن ان فرقوں کو بنیاد بنا کر دونوں کی ذہنی، فکری، سیاسی اور حربی و جنگی صلاحیتوں کے بارے میں عمومی اور امتیازی فیصلے صادر کرنا نہ تو سائنسی طور پر درست ہے اور نہ ہی منطقی اعتبار سے صحیح۔
حیاتیاتی فرق کو سماجی، سیاسی اور تحریکی عدم برابری کا جواز بنانا دراصل عورت کے شعوری کردار کے تصورات کو خلط ملط کرنے کے مترادف ہے۔ یہ محض ایک نوآبادیاتی بیانیہ اور ڈسکورس ہو سکتا ہے، جو تحریکوں میں عورت کے سیاسی یا عسکری بازو بننے کے عمل اور شرکت سے لرزاں ہوتا ہے جو سائنسی و سیکولر سماجی سوچ سے براہِ راست متصادم ہے۔ حیاتیات مرد اور عورت کے جسمانی و تولیدی فرق کی وضاحت کرتی ہے، لیکن ان فرقوں کو بنیاد بنا کر عورت کی سیاسی خودمختاری، فکری صلاحیت، فیصلہ سازی اور قومی جدوجہد میں شرکت کو محدود کرنا سائنسی استدلال کے بجائے ایک نوآبادیاتی اور پیٹی مذہبی مفروضہ ہے۔
کسی بھی قومی، مسلح یا سیاسی تحریک میں عورت کی شرکت محض جسمانی موجودگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے شعور، سیاسی فہم، تجربے، تنظیمی صلاحیت اور قومی فیصلوں میں کردار کا سوال بھی ہے۔ عورت کو صرف ایک حیاتیاتی شناخت تک محدود کر دینا اس کی انسانی شخصیت کے دوسرے تمام پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔
بلوچ سیاسی و مسلح تحریکِ آزادی کو بھی دنیا کی دیگر قومی آزادی کی تحریکوں کے تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں خواتین نے مختلف ادوار میں سیاسی، مزاحمتی، فکری اور دیگر عملی میدانوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تناظر میں بلوچ خواتین کی شرکت کو بلوچ سماج کی فرسودہ اور استعمار کی تخلیق کردہ روایات، یا مذہبی و ثقافتی تصورات کے ساتھ ایک غیر ضروری تصادم کے طور پر پیش کرنے کے بجائے، اسے انسانی صلاحیتوں، سیاسی شعور، قومی آزادی اور مساوی شرکت کے اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ بلوچ نیشنلزم کی ترقی پسندانہ اور آزادی پسندانہ فکر کا تقاضا ہے کہ عورت کو محض ایک روایتی گھریلو سماجی کردار میں محدود رکھنے کے بجائے ایک باشعور انسان، سیاسی فاعل اور جدوجہد میں شریک فرد کی حیثیت سے دیکھا جائے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا کوئی سماج، کوئی قومی تحریک یا کوئی آزادی کی جدوجہد اپنی نصف آبادی کی صلاحیتوں، تجربات، سیاسی شعور اور مجموعی قوت و یکجہتی کو نظرانداز کرکے اپنی آزادی، خودمختاری اور سماجی تبدیلی کے مقاصد حاصل کر سکتی ہے؟ اگر آزادی کا تصور ایک قوم کی محکومی سے نجات، اس کی خودمختاری، اس کے وقار اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق سے عبارت ہے، تو پھر اس تصور میں عورت کو مرد کے برابر ایک فعال انسانی اکائی تسلیم کرنے سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے؟
بلوچ تحریکِ آزادی میں بنیادی مسئلہ محض عورت کی شرکت و شمولیت یا حصہ داری کا نہیں، بلکہ اس تصورِ انسان کا ہے جس کی بنیاد پر ہم کسی سیاسی تحریک، قومی آزادی یا انقلاب کی تعریف متعین کرتے ہیں۔ اگر انسان کو اس کی عقل، شعور، ارادے، تجربے اور سیاسی فیصلے کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر سمجھا جائے، تو بلوچ عورت کو قومی جدوجہد سے خارج کرنے کے لیے محض اس کی حیاتیاتی ساخت یا روایات کا بھونڈا حوالہ دینا قطعی غلط ہے۔ پنجابی ریاست کے پاس کوئی مضبوط علمی، سائنسی اور منطقی دلیل نہیں جو یہ ثابت کر سکے کہ حیاتیاتی فرق کی وجہ سے بلوچ عورت جنگ کا اٹوٹ حصہ نہیں بن سکتی۔ جدید سائنس، فلسفہ اور سیاسی نظریات کا مطالعہ اس مفروضے کی تائید کبھی نہیں کرتا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک عورت استعمار کی پولیس میں ملازمت کر سکتی ہے، اس کی فوج میں بھرتی ہو سکتی ہے، جنگی جہاز اڑا سکتی ہے، بحریہ کا حصہ بن سکتی ہے، کٹھ پتلی پارلیمان میں رکن بن سکتی ہے، استعماری بینک میں مالیاتی امور انجام دے سکتی ہے، بورژوا عدلیہ میں نام نہاد فیصلے کر سکتی ہے اور پنجابی ریاستی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز ہو سکتی ہے، تو پھر یہی عورت جب بلوچ تحریکِ آزادی، یعنی قومی آزادی کی جدوجہد میں سیاسی و مسلح محاذ پر اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے، تو اس کی جنس، کردار اور شرکت پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں؟
اگر عورت کی ذہانت سامراجی اداروں کے لیے قابلِ قبول ہے، اس کی جسمانی صلاحیت فوجی خدمات کے لیے قابلِ استعمال ہے، اس کی سیاسی بصیرت پارلیمان میں تسلیم کی جا سکتی ہے اور اس کی پیشہ ورانہ مہارت معیشت میں اہم سمجھی جاتی ہے، تو پھر بلوچ تحریکِ آزادی میں اس کی شمولیت پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے؟ کیا عورت کی صلاحیت کا تعین صرف قابض کر سکتا ہے اور مقبوضہ و نوآبادیاتی قوم کو اس کا حق یا اختیار نہیں؟ یہیں سے اس بحث کا اصل نکتہ اور ریاست کا من گھڑت بیانیہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی فرد کی صلاحیت کا فیصلہ متعلقہ کام، اس کی تربیت، تجربے اور اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض اس کی جنس کی بنیاد پر۔ اگر سیاسی تحریک میں شمولیت کے لیے علم، نظریاتی فہم، تنظیمی صلاحیت، سیاسی بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری درکار ہیں، تو ان معیاروں کا اطلاق ہر فرد پر ہونا چاہیے۔ صرف عورت ہونے کی وجہ سے کسی کو ان صلاحیتوں سے محروم فرض کرنا منطقی استدلال نہیں، بلکہ ایک غیر ثابت شدہ مفروضہ ہے۔
یہاں دوہرے معیار کی صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عورت سے استعمار کے لیے خدمات تو قبول کی جائیں، مگر اسے اپنے سیاسی مؤقف کے اظہار اور اپنے آزاد مستقبل کے فیصلوں اور اپنی آزادی کے لے لڑی جانے والی جنگ میں شرکت سے روکا جائے۔ بلوچ تاریخ مدر سری کا تاریخ رہا ہے؛ مہرگڑھ اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ تمام ادوار کے مزاحمتی جنگون میں بلوچ عورت کی سالارانہ اور قیادتی حیثیت تاریخ کا حوالہ ہے
بلوچ عورت سیاسی شعور، قومی شناخت، آزادی کی جدوجہد، قومی ذمہ داری یا مزاحمت کی صلاحیت میں بلوچ مرد سے فطری طور پر کسی بھی دور میں کم تر نہیں رہا ۔ بلوچ سماج مین نہ ہی مرد حاکم ہے اور نہ ہی عورت محکوم۔ غلامی کے خلاف جنگ میں دونوں اصناف کا کردار یکساں ہے۔
بلوچ عورت ایجی ٹیشن بھی کر سکتی ہے، لکھ سکتی ہے، اور یہ ایک تعلیمی مرحلہ ہے۔ وہ جنگ میں حصہ دار ہو سکتی ہے۔ وہ اپنی قومی آزادی کے لیے وہ تمام ٹولز استعمال کر سکتی ہے جو اس کا بھائی، اس کا باپ، اس کا شوہر اور اس کا بیٹا استعمال کرتا ہے۔ وہ اپنے مؤقف کی تشہیر کر سکتی ہے، آئی ٹی اور سوشل میڈیا کے ٹولز سے استفادہ کر سکتی ہے، ادبی تحریک چلا سکتی ہے، مصوری کر سکتی ہے، موسیقار بن سکتی ہے اور تنظیم بنا سکتی ہے۔ یہ یک قطبی جنگ نہیں، بلکہ کثیرالجہتی جنگ ہے۔ ہر محاذ اپنی قیمت، جفاکشی اور محنت مانگتا ہے۔ یہ سب مل کر بلوچ جنگ آزادی کی نشود نماء کرتے ہیں۔
اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بلوچ تحریکِ آزادی ایک فری جینڈر تحریک ہے، جہاں بھائی اور بہن، شوہر اور بیوی ایک ساتھ محاذ پر موجود ہوتے ہیں، جہاں سارے سنگت اور کامریڈز ہوتے ہیں، جہاں کوئی صنفی درجہ بندی نہیں، اور جہاں مرد اور عورت دونوں قومی جدوجہد کے مساوی کردار ہیں۔ حیاتیاتی اور جسمانی فرق کا حاصل یہ نہیں کہ عورت کسی بھی فیصلہ سازی، قیادت، رہنمائی، رہبری اور کمان داری میں مرد سے کمتر ہے۔
یہاں استعمار اور اس کے حاشیہ بردار بلوچ تحریکِ آزادی میں بلوچ خواتین کے کردار اور شمولیت کو سبوتاژ کرنے کے لیے جو بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ یہ بلوچ روایات کے خلاف ہے، وہ دراصل استعمار کا وہ خوف ہے جس کی پاؤں تلے زمین سرک رہی ہے، کیونکہ اب بلوچ تحریک ایک فیصلہ کن موڑ عبور کر چکی ہے۔
بلوچ روایات کو مسخ کرنے کی یہ بھونڈی کوشش ہر استعمار اور ہر حملہ آور کا ہتھیار رہی ہے۔ بلوچ کی روایت، تہذیب اور اقدار استعمار کی غیر مہذبیت کو بے نقاب اور شرمندہ کرتی ہیں۔ بلوچ تاریخ اور تہذیب میں کسی سے کم نہیں۔ جن اعلیٰ روایات کا بلوچ امین ہے، وہ پنجاپ کے نام نہاد فضول فیمینزم کو بھی شرمسار کرنے کے لیے کافی ہیں۔
استعمار صرف جارحیت، قبضے اور تشدد کو جانتا ہے۔ وہ ایک غیر انسانی اور حیوانی نظام سے منسلک ہوتا ہے۔ اس کے پاس علم، شعور، عقل، دلیل اور روایات پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی؛ اس کے پاس صرف ڈنڈا ہوتا ہے، کیونکہ وہ صرف جنگی جنون سے کام چلاتا ہے۔
ایک غیر مہذب قوم کس طرح اور کس پیمانے سے بلوچ روایات، نظریات اور تہذیب کو چیلنج کر سکتی ہے؟ کیا روایات، ثقافت اور تہذیبیں کسی جادوئی عمل سے ابھرتی ہیں؟ نہیں، قطعاً نہیں۔ روایات اور تہذیب صدیوں اور ہزاروں سال کے طویل ارتقائی سفر، بحث، مکالمے، قوانین، تجزیے، پرکھ اور منطقی و جدلیاتی عمل سے گزر کر جنم لیتی ہیں اور نافذ ہوتی ہیں۔
یہ پتھر کی سل ہے کہ بلوچ نے قدیم زمانے سے سورج کو دیوتا نہیں، بلکہ ایک سیارہ سمجھا ہے، اور حملہ آور کو خدائی قوت یا اپنی قسمت نہیں، بلکہ زور آور اور حملہ آور کا درجہ دے کر اپنا دفاع کیا ہے۔ ماضی میں بلوچ تاریخ میں بلوچ عورتوں نے دفاعی جنگ میں مردوں کے ہم گام جدوجہد کی ہے، اور آج بھی یہ ان کی اسی روایت، تہذیب کے ورثے اور تعلیمات کا حصہ ہے۔ بلوچ خواتین تحریک کے افق پر ہمیشہ سے محراب نما رہی ہیں۔
بلوچ نے اس خیال کو نہ پہلے قبول کیا ہے، نہ آئندہ کرے گا کہ پاکستانی ریاست کوئی خدائی یا مافوق الفطرت ریاست ہے، نہ ہی اس کا آئین آسمان سے نازل ہوا ہے، اور نہ ہی مسلمان ہونے کے ناطے ہم ایک جغرافیے میں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ پاکستانی ریاست برطانوی سامراج کی تشکیل کردہ ریاست ہے، جس کا کردار ایک استعماری ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ نہ ہی یہ کثیرالقومی ریاست ہے، نہ کوئی کنفیڈریشن، بلکہ یہ عالمی سامراج کی کالونی اور اس کی پاکٹ ہے۔ ایک پپٹ ریاست کو بلوچ کیسے تسلیم کریں، جس کی عمر، تاریخ، تہذیب، جغرافیہ، تزویراتی اور زمینی و سرحدی حیثیت اور مقام اس سے کئی گنا بلند ہے؟
خراج تحسین کے لائق ہے بلوچ عورت جو اب اپنی دھرتی کی نجات کی جنگ میں غیر معمولی عسکری اور فدائیانہ کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ الجزائر کی آزادی کی جنگ میں جمیلہ بوہیرَد، زہرا ظریف، انگولا کی آزادی کی جدوجہد میں سرگرم ڈیولینا گومیش، ہندوستان کی آزادی کی جنگ میں رانی لکشمی، رانی ویلو ناچیار اور ویتنامی بہنوں کی طرح سیاسی و حربی محاذ، تنظیم سازی، معلومات اور رسد کی فراہمی میں معاون ہی نہیں، بلکہ سرگرمیوں میں عملی طور پر شریک بھی ہے۔
(جاری ہے)۔۔۔۔۔۔
٭٭٭