بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جہاں ایک طرف س پاکستانی فوج نے ضلع کیچ سے دو حقیقی بھائیوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، وہیں دوسری جانب چند روز قبل نوشکی سے لاپتہ ہونے والے دو نوجوان شدید ذہنی و جسمانی اذیتیں سہنے کے بعد بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق 9 اکتوبر 2026ء کو دن 11:00 بجے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں نے ضلع کیچ کے علاقے بالگتر لوپ میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر دو سگے بھائیوں کو حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عبدالغنی ولد حسین (عمر 30 سال)، پیشے کے لحاظ سے کسان اور بالگتر لوپ (کیچ) کے رہائشی اور عبدالغفار ولد حسین، (عمر 28 سال) پیشے کے لحاظ سے کسان اور بالگتر لوپ (کیچ) کے رہائشی کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
اہلِ خانہ اور مقامی ذرائع کے مطابق فورسز نے گرفتاری کی کوئی قانونی وجہ بتائے بغیر دونوں بھائیوں کو لاپتہ کر دیا، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
دوسری جانب نوشکی کے علاقے کلی بٹّو سے 9 اکتوبر 2026ء کو جبری لاپتہ کیے جانے والے دو نوجوان شے مرید جمالدینی (ولد احمد نواز) اور مرتضیٰ جمالدینی (ولد درا خان) 14 اکتوبر 2026ء کو نوشکی کے مقام سے بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں نوجوانوں کو دورانِ حراست شدید غیر انسانی ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور عقوبت خانوں میں ہونے والے تشدد کا فوری نوٹس لیں۔