خضدار: شفیق مینگل کی شدید زخمی ہونے اور ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

معتبر ذرائع کے مطابق بلوچستان کے علاقے خضدار میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مجید بریگیڈ کی جانب سے کیے گئے فدائی حملے میں شفیق مینگل شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شفیق مینگل کو طبی امداد کے لیے ہوائی راستے (ایئر لفٹ) سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ تصادم کے دوران شفیق مینگل کے کئی ساتھی مارے گئے ہیں تاہم ہلاکتوں کی صحیح تعداد کی ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں خضدار میں ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ شفیق مینگل کے ٹھکانے پر مجید بریگیڈ کا فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 20 سے زائد کارندے ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی خضدار شہر میں ریاستی آلہ کار اور بلوچ قومی غدارِ اعظم شفیق مینگل کے مرکزی عسکری کمپاؤنڈ پر ہونے والے فدائی حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے اس وقت سرانجام دی جب شفیق مینگل اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کا آغاز مجید بریگیڈ کے ایک جانباز فدائی سنگت نے بارود سے بھری گاڑی کو ڈیتھ اسکواڈ کے اس مضبوط ٹھکانے سے ٹکرا کر کیا، جس کے نتیجے میں کمپاؤنڈ کا بڑا حصہ اور بیرونی دفاعی لائنیں سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طاقتور دھماکے کے فوراً بعد، مجید بریگیڈ کے دیگر فدائین کامیابی کے ساتھ کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوگئے اور اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن میں ڈیتھ اسکواڈ کے 20 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ آخری اطلاعات آنے تک خود شفیق مینگل وہاں موجود تھے۔ یہ فدائی آپریشن تاحال جاری ہے۔

دوسری جانب ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر شفیق مینگل پر خضدار میں حملے کے حوالے سے اس کے ترجمان ندیم الرحمن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خضدار حملے میں شفیق مینگل محفوظ رہے جبکہ 12 سے 14 ساتھی ہلاک ہوئے ۔ تاہم اب تک اس خبر کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

شفیق الرحمن مینگل کے ترجمان ندیم الرحمن محمد شہی نے مقامی میڈیا انتخاب نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاتھاکہ شفیق مینگل کی رہائش گاہ پرہونے والے خودکش حملے کے بعد ڈھائی گھنٹے جنگ جاری رہی جس کی شفیق مینگل خود نگرانی کررہے تھے اس حملے میں اب تک ہمارے 12 سے 14 ساتھی ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہیں ۔

یاد رہے کہ اس حملے کے حوالے سے بی ایل اے کی ابتدائی بیان کے بعد اب تک حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ابتدائی بیان میں بی ایل اے کا کہنا تھا کہ آپریشن کے اختتام پر تفصیلی بیان جاری کی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article