بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں ایک ہفتے میں 22 کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 24 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی دفاع میں ایک سرمچار ہارون رشید بزدار شہید ہوگئے۔
ترجمان نے کہا کہ ایک ہفتے کے دوران بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سرمچاروں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 22 کارروائییاں کیں، جن میں قابض پاکستانی فوج، اس کے کارندوں، مخبر نیٹ ورکس اور عسکری تنصیبات کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ان تابڑ توڑ حملوں کے نتیجے میں قابض فوج کے 24 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، اہم شاہراہوں پر سرمچاروں کا کنٹرول برقرار رہا، اور معاشی ناکہ بندی کے تحت دشمن کی نقل وحرکت کو شدید مفلوج بنایا گیا۔ اس دوران قابض فوج سے جھڑپوں میں بی ایل اے کا ایک جاں نثار سرمچار بھی جامِ شہادت نوش کرگیا۔
کارروائیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
یکم اکتوبر: بلیدہ کے علاقے جنتری میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر شدید حملے کا نشانہ بنایا، جس سے دشمن کو جانی ومالی نقصانات اٹھانے پڑے۔
2 اکتوبر: مستونگ کے علاقے گرگینہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کو اس وقت نشانہ بنا کر پسپا کر دیا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کر رہی تھی۔ دیر تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں میں دشمن کے تین اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی شب قابض فوج نے قلات کے علاقے منگچر میں بھی پیدل پیش قدمی کی کوشش کی، جسے مستعد سرمچاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پسپائی پر مجبور کردیا۔
اسی روز نوشکی میں قادر آباد بائی پاس کے مقام پر بی ایل اے کے سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ایک اہم کارندے، شاہ خالد سکنہ قاضی آباد نوشکی، کو مسلح حملے میں ہلاک کردیا۔ مذکورہ کارندہ قابض فوج کے لیئے مخبری کرنے اور گھروں پر چھاپوں کے دوران فوج کی معاونت میں براہ راست ملوث پایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، وہ خواتین کو بلیک میل کرکے مخبری اور دیگر معاشرتی برائیوں میں بھی ملوث تھا۔ اس نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی بھی نشاندہی ہوچکی ہے جنہیں جلد اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
3 اکتوبر: سرمچاروں نے زیرِ حراست "ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندے حامد سید سکنہ زیردان (بلیدہ) کو قومی غداری کے مرتکب ہونے پر بلوچ قومی عدالت کے فیصلے کے تحت ہلاک کر دیا۔ آلہ کار حامد کو 23 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا؛ دورانِ تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ وہ غفار کے ڈیتھ اسکواڈ سے منسلک تھا۔ اس نے بلیدہ، پڈک ڈن اور گزبستان میں فوجی جارحیت کے دوران راستوں کی بندش اور فوج کی سہولت کاری کا اعتراف کیا، جبکہ ان علاقوں میں چوری وڈکیتیوں میں بھی وہ ملوث رہا ہے۔ آلہ کار حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نظام ولد علی نامی نوجوان کو جبری لاپتہ کرکے ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ حمید کے گھر منتقل کیا گیا تھا، جس کی مسخ شدہ لاش چار دن بعد برآمد ہوئی تھی۔
اسی روز ماشکیل میں پتکن اور مت کے مقامات پر سرمچاروں نے مواصلاتی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے دو ٹاوروں کو نذرآتش کرکے مکمل تباہ کردیا۔
4 اکتوبر: چاغی میں کوئٹہ-تفتان تجارتی روٹ پر چہتر کے مقام پر سرمچاروں نے قابض فوج اور تجارتی گاڑیوں کے قافلے میں شامل دشمن کی ایک بکتر بند گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بکتر بند کو شدید نقصان پہنچا۔ دریں اثنا، واشک کے علاقے ارماگئے میں سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے قابض فوج کی بسوں اور دیگر سیکیورٹی گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ کیا، اس شدید حملے میں قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک اور تیرہ سے زائد زخمی ہوگئے۔
اسی روز مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد میں لکپاس کے قریب، سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کی پوسٹ پر پہلے سنائپر سے حملہ کیا اور بعد ازاں دیگر جدید ہتھیاروں سے یلغار کردی، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک اور دیگر کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ادھر قلات کے علاقے منگچر (سورو) میں سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ مزید برآں، چاغی کے علاقے چہتر میں سرمچاروں نے ایک تجارتی گاڑی کو تحویل میں لے لیا جبکہ ایک اور گاڑی کے ٹائروں کو ناکارہ بنا دیا۔
5 اکتوبر: پنجگور کے علاقے پروم (ہوکانی) میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کو دھماکے اور مسلح حملے میں زبردست نقصان پہنچایا۔ پہلے ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا جس میں دشمن کے تین اہلکار موقع پر ہلاک اور دو شدید زخمی ہوگئے، اور جب اضافی نفری وہاں پہنچی تو سرمچاروں نے مسلح حملے میں مزید اہلکاروں کو ہلاک کر دیا اور دشمن کا ایک سرویلنس ڈرون بھی مار گرایا۔
دریں اثنا، قلات کے علاقے منگچر (سورو) میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کو بھاری ہتھیاروں سے گھات لگا کر نشانہ بنایا، جہاں دشمن کی ایک گاڑی تباہ اور چار اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ مزید برآں، مستونگ کے علاقے کردگاپ میں آئی ای ڈی حملے سے فوج کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، اور کوئٹہ کے علاقے ڈغاری (سبی روڈ) پر بھی قابض فوج کے قافلے کو گھات لگا کر جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا گیا۔
6 اکتوبر: آواران کے علاقے گیشکور میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں موٹرسائیکل پر سوار اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہلاک ہو گئے۔
منگل کی شب گوادر شہر کے جنت بازار میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کارندوں کے ایک ٹھکانے پر دستی بم سے حملہ کیا جس میں تین کارندہ زخمی ہوگئے۔
ہرنائی کے علاقے شاہرگ سے حراست میں لیئے گئے قابض فوج کے دو کارندوں، عمران بابڑ ولد خدائے داد اور بلال ولد اسلم، کو سرمچاروں نے اعترافِ جرم کے بعد ہلاک کر دیا۔ عمران نے اعتراف کیا کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے قابض فوج کے لیئے بطور مخبر اور سہولت کار کام کر رہا تھا، شاہرگ میں فوجی جارحیت اور ماڑی گیس سائٹ پر حملے کے بعد فوج کی راہنمائی اور راستوں کی کلیئرینس میں ملوث رہا ہے، نیز وہ موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں بھی سرگرم تھا۔
دوسرے آلہ کار بلال کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب بی ایل اے انٹیلی جنس ونگ کو مصدقہ اطلاعات ملیں کہ وہ خود کو ہمدرد ظاہر کرکے بی ایل اے کی صفوں میں گھسنے کی کوشش کررہا ہے۔ دورانِ تفتیش بلال نے اعتراف کیا کہ وہ فوج کے لیے کام کر رہا تھا اور سرمچاروں کے پاس سامان کے ساتھ ٹریکنگ چپ پہنچانے کی مذموم کوشش میں تھا۔
آخر میں جیئند بلوچ کا کہنا تھا کہ 20ستمبر کو سبی کے علاقے لہڑی میں بی ایل اے کے سرمچار اپنے تنظیمی اور دفاعی فرائض کی انجام دہی کے دوران معمول کے گشت پر مامور تھے، اس دوران قابض پاکستانی فوج کے دستوں کے ساتھ ان کا سامنا ہوا۔ تصادم کے اس واقعے میں سرمچاروں نے پیشہ ورانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفاعی پوزیشن سنبھالی اور دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو شدید جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تصادم کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے جاں نثار سرمچار کمانڈر ہارون الرشید بزدار عرف مبارک (واھگ بزدار) نے فرنٹ لائن پر مزاحمت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ تنظیم ان کی اس گراں قدر قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور یہ عزم دہراتی ہے کہ شہداء کے مشن کو ان کے فکری اصولوں کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔