پروفیسر صالح محمد شاد کی وفات سے بلوچ قوم ایک ادیب و شاعر سے محروم ہوگئی، بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی ( بی وا ئی سی) نے میدیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ معروف براہوی ادیب، شاعر اور ڈگری کالج مستونگ کے سابق پرنسپل پروفیسر صالح محمد شاد کی طویل علالت کے بعد ناگہانی وفات نے پوری قوم کو شدید غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ پروفیسر صالح محمد شاد کو 22 اگست 2022 کو 8 دیگر رشتہ داروں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں زخمی حالت میں کوئٹہ ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔ دورانِ حراست تشدد کے باعث ان کی صحت شدید متاثر ہوئی اور طویل علالت کے بعد وہ انتقال کرگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد، شاعر اور ادیب کی موت کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ جبری حراست، تشدد، انسانی حقوق کی پامالی، سماجی ناانصافی اور جوابدہی کا فقدان صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار اور بنیادی انسانی حقوق کا سوال ہے۔ پروفیسر صالح محمد شاد کے ساتھ کیا ہوا؟ ان کی حراست اور تشدد کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا اس واقعے کی شفاف تحقیقات اور جوابدہی ہوگی؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح یہ واقعہ بھی وقت کی گرد میں دبا دیا جائے گا، فائلیں بند کر دی جائیں گی، سوالات بے جواب رہیں گے اور ایک انسانی جان کے ضیاع کو بھی بھلا دیا جائے گا؟

بیان میں کہا گیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ خاموشی سوالات کو ختم نہیں کرتی۔ اگر آج بھی ایسے واقعات کو نظرانداز کیا گیا تو کل یہی سوال مزید شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑے ہوں گے۔ پروفیسر صالح محمد شاد کو صرف خراجِ عقیدت پیش کرنا کافی نہیں؛ ان کی وفات سے اٹھنے والے سوالات کے جواب بھی ضروری ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article