خضدار سے مزید 2 افراد جبری لاپتہ، پسنی سے لاپتہ رشید بلوچ بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں پاکستانی فورسز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD)، ملٹری انٹیلی جنس (MI) اور ڈیتھ اسکواڈز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ضلع خضدار سے 2 مزید بلوچ شہریوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ضلع گوادر کے تحصیل پسنی سے ایک لاپتہ شہری بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قادر بخش ولد محمد رمضان (عمر 66 سال) ، سکنہ باغبانہ، خضدار۔ قادر بخش کو 6 ستمبر 2026 کو رات 9:00 بجے خضدار کی آر سی ڈی روڈ سے سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

اسی طرح منیر احمدولد شریف (عمر 32 سال) ، پیشہ ڈرائیور، سکنہ ایسٹخالی نال، خضدار۔ منیر احمد کو 2 اکتوبر 2026 کو رات 9:00 بجے ان کے گھر سے ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح افراد نے اٹھا کر لاپتہ کر دیا۔

جبکہ دوسری جانب، گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے گورستانی شادی کور کے رہائشی رشید بلوچ ولد قادر بخش بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

رشید بلوچ کو پاکستانی فورسز نے 30 اگست 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، جو مسلسل حراست میں رہنے کے بعد 27 ستمبر 2026 کو باحفاظت اپنے گھر واپس پہنچے ہیں۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال اور ریاستی اداروں کی جانب سے شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تشویش و غصہ پایا جاتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article