خضدار حملے میں شفیق مینگل محفوظ ، 14 ساتھی ہلاک ہوئے، ترجمان ندیم الرحمن کا دعویٰ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرشفیق مینگل پر خضدار میں حملے کے حوالے سے اس کے ترجمان ندیم الرحمن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ خضدار حملے میں شفیق مینگل محفوظ رہے جبکہ 12 سے 14 ساتھی ہلاک ہوئے ۔

تاہم اب تک اس خبر کی کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

شفیق الرحمن مینگل کے ترجمان ندیم الرحمن محمد شہی نے مقامی میڈیا انتخاب نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شفیق الرحمن مینگل کی رہائش گاہ پرہونے والے خودکش حملے کے بعد ڈھائی گھنٹے جنگ جاری رہی جس کی شفیق مینگل خود نگرانی کررہے تھے اس حملے میں اب تک ہمارے 12 سے 14 ساتھی ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہیں ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کی مسلح افراد کی جانب سے حملے میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جبکہ حملے اور جھڑپوں کے دوران پانچ خو دکش حملہ آور بھی مار ے گئے۔

یاد رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی بی ایل اے کے فدائی ونگ مجید بریگیڈ نے اس وقت سرانجام دی جب شفیق مینگل اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں مصروف تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کا آغاز مجید بریگیڈ کے ایک جانباز فدائی سنگت نے بارود سے بھری گاڑی کو ڈیتھ اسکواڈ کے اس مضبوط ٹھکانے سے ٹکرا کر کیا، جس کے نتیجے میں کمپاؤنڈ کا بڑا حصہ اور بیرونی دفاعی لائنیں سیکنڈوں میں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اس طاقتور دھماکے کے فوراً بعد، مجید بریگیڈ کے دیگر فدائین کامیابی کے ساتھ کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہوگئے اور اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس آپریشن میں ڈیتھ اسکواڈ کے 20 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ آخری اطلاعات آنے تک خود شفیق مینگل وہاں موجود تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فدائی آپریشن تاحال جاری ہے۔ آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد تفصیلی رپورٹ اور اعداد و شمار جلد ہی تنظیمی ذرائع سے میڈیا کو جاری کیئے جائیں گے۔

بی ایل اے کی جانب سے حملے میں شفیق مینگل کی اب تک کسی قسم کی زندہ بچنے کی موقف سامنے نہیں آئی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article