بلوچ یکجہتی کمیٹی( بی وائی سی ) نے پنجگور میں فورسزکی جانب سے بچوں پر کواڈ کاپٹر حملے کو ریاستی دہشتگردی قرار دیکر اس کی شدید مذمت کی ہے ۔
جاری بیان میں بی وائی سی نے کہا ہے کہ فتح علی بازار گوارگو، پنجگور میں پاکستانی فورسز کی بمباری میں بچوں کا نشانہ بننا بلوچستان میں جاری اجتماعی سزا اور ریاستی دہشتگردی کی ایک اور ہولناک مثال ہے۔ 3 اکتوبر کو ہونے والے اس حملے میں 9 سالہ ارمان ولد انور اور 10 سالہ عمل ولد سالم جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 9 سالہ شاہد، 7 سالہ زاہد ولد شاہد اور 12 سالہ نوراللہ ولد رفیق زخمی ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ بلوچستان میں خوف، تشدد اور اجتماعی سزا کے ذریعے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھنے کی پالیسی ہے۔ ریاستی جبر کا یہ تسلسل ہر نئے واقعے کے ساتھ اس حقیقت کو مزید آشکار کرتا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ انسانی جانوں اور زندگیوں کو کس قدر بے توقیر سمجھا جا رہا ہے۔
بیان میں کہاگہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچ شہریوں کے خلاف جاری اجتماعی سزا، فوجی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔ معصوم بچوں کے قتل کا احتساب ہونا چاہیے اور بلوچستان کے عوام کو تحفظ، انصاف، آزادی اور اپنے سیاسی حقوق کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔
ترجمان کے مطابق اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات کے آئے روز پیش آنے کے باوجود انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی برادری کی جانب سے مؤثر ردِعمل نظر نہیں آتا۔بلوچستان میں جاری خونریزی ان تمام اداروں کے خاموشی پر سوال اٹھاتی ہے جو ہر انسان کے حقوق کے دفاع کا دعوی کرتے ہیں ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں بلوچستان میں ریاستی دہشتگردی کو فورا روکا جائے اور جنگی جرائم میں ملوث زمہ داروں کو جوابدہ کیا جائے۔