گوادر و پسنی میں دستی بم حملے و فائرنگ سے 5 افراد زخمی، فورسز کا گھیراؤ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر اور پسنی میں پیش آنے والے دو مختلف پرتشدد واقعات میں دستی بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق پہلا واقعہ گوادر کے گنجان آباد علاقے ‘جنت بازار’ میں پیش آیا، جہاں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایک موبائل فون کی دکان کو نشانہ بناتے ہوئے دستی بم پھینکا۔

دستی بم دھماکے کی زد میں آ کر دکان میں موجود 3 افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق زخمیوں کی شناخت شوکت، ان کے بیٹے باقر اور ظفر کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق سندھ کے ضلع کشمور سے بتایا جاتا ہے۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو محاصرے میں لے لیا جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

دوسری جانب ساحلی شہر پسنی میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے دو افراد کو شدید زخمی کر دیا۔

پولیس کے مطابق فائرنگ سے کلانچ (حال وارڈ نمبر 6 پسنی) کے رہائشی حکیم ولد مجید اور بسول (اورماڑہ) کے رہائشی ریاض ولد عالی زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوراً بعد دونوں زخمیوں کو پاک عمان ہسپتال پسنی منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد ان کی نازک حالت کے پیشِ نظر انہیں مزید علاج کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان دونوں واقعات کے بعد پولیس نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم تاحال کسی بھی مسلح تنظیم کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article