بلوچستان اور کراچی میں پاکستانی فوج، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور خفیہ ایجنسیوں (ISI) کی جانب سے بلوچ شہریوں پر جبر و تشدد، فائرنگ اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق کوئٹہ سے ایک 19 سالہ طالب علم کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے، دالبندین میں چیک پوسٹ پر فائرنگ کر کے ایک نوجوان کو ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے، جبکہ کراچی سے جبری لاپتہ ایک شہری اذیت خانوں سے رہائی کے بعد گھر پہنچ گیا ہے۔
کوئٹہ کے علاقے کلی نیو مسلم آباد کے رہائشی 19 سالہ طالب علم زوہیب گل بلوچ ولد گل میر کو 1 جنوری 2026ء کو رات 1:00 بجے سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر حراست میں لیا اور نا معلوم مقام پر منتقل کر کے جبری لاپتہ کر دیا۔
دالبندین کے علاقے کور نالی پٹک کے قریب پاکستانی فوج نے چیک پوسٹ سے گزرتے ہوئے 28 سالہ کسان یاسین بلوچ ولد محمد غوث (سکنہ ظهور کالونی، دالبندین) پر براہِ راست فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں یاسین موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے ساتھی سمیع شدید زخمی ہو گئے۔ یاسین اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا اور اپنی بہنوں کی کفالت کرنے والا واحد سہارا تھا۔
بی وائی سی کے مطابق فورسز کی چیک پوسٹس بلوچ عوام کے لیے ذلت اور قتل گاہیں بن چکی ہیں۔
دوسری جانب، شالی میتگ ملیر کراچی کے رہائشی شہروز قیوم ولد عبد القیوم ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے رہائی کے بعد باحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ شہروز قیوم کو 31 مارچ 2026ء کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، جنہیں مسلسل 6 ماہ سے زائد عرصے تک تحویل میں رکھنے کے بعد 7 اکتوبر 2026ء کو رہا کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں فورسز کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت قتل و جبری گمشدگیوں کا نوٹس لیں۔