ضلع کیچ : دشت میں زمینی و فضائی آپریشن جاری ، کئی علاقوں میں کیمپ قائم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ضلع کیچ کے مزن بند دشت کے وسیع علاقے میں پاکستانی فوج کی گزشتہ تین دن سے بڑی تعداد میں جارحیت جاری ہے۔
دشت اور تمپ کے درمیان مزن بند کے پہاڑی سلسلے میں دو اطراف سے پاکستانی فوج داخل ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں بھی چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد ہیں جنہیں پاکستانی فوج اس طرح کے جارحانہ حملوں کے دوران ، مالی اور جانی نقصان پہنچاتی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج ہفتے کے دن بڑی تعداد اور بھاری اسلحہ کے ساتھ گورگی کے راستے ان علاقوں میں داخل ہوئی ہے۔پاکستانی فوج نے ان پہاڑی علاقوں سرپٹ سرتاپ کے مقام پر اپنا آپریشنل بیس کیمپ بنایا ہے جہاں اسے فضائی مدد بھی حاصل ہے۔
عین شاہدین کے مطابق سرپٹ سارتاپ کے مقام پر جنگی جہاز وں کو اترتے اور وہاں سے پرواز کرتے ہوئے دیکھا جارہا ہے جس سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ پاکستانی فوج ایک طویل اور وسیع آپریشن کی تیاری کے ساتھ علاقے میں داخل ہوئی ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ بانسر کے  علاقے کو بھی پاکستانی فوج نے گھیرے میں لے کر چرپان کور کے بالائی علاقے میں بھی ایک کیمپ قائم کیا ہے اور قریبی علاقوں میں وسیع سرچ آپریشن کا سلسلہ جاری رکھی ہوئی ہے۔ندیوں میں اگی پیش( مزری) ، دوسری سایہ درختوں اور جنگلات کو آگ لگا رہی ہے

مقامی ذرائع   نے بتایا کہ یہ جنگلات نہ صرف انواع و اقسام کے جنگی حیات  کا ضامن ہیں بلکہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے گلہ بانوں کی گلہ بانی کا انحصار بھی انہی درختوں پر ہے۔جب کہ پیش کے درختوں سے مویشیوں کے لیے چارہ کے علاوہ اور بھی ضروریات کی چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔جیسا کہ پیش کے پتوں سے چپلیں،چٹائیاں ،ٹوکریاں اور دیگر چیزیں بنائی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کی جھونپڑیاں بھی انہی درختوں سے بنائی جاتی ہیں جنہیں وسیع پیمانے پر جلایا جارہا ہے جن کا ازالہ اگلی دہائی تک بھی ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف کنتریز کے راستے سے بھی پاکستانی فوج کے دستے علاقے میں داخل ہوئے ہیں جو ہر ایک ندی کی تلاشی لے رہے ہیں اور ساتھ ہی درختوں کو بھی جلا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق   تلی دار،کروچی،موکندر،زیارتی اور نیمگو ندی کے دہانوں پر پاکستانی فوج چوکیاں قائم کرکے بیٹھی ہوئی ہے۔
ان علاقوں سے تاہم کسی بھی قسم کے جانی نقصان اور گرفتاریوں کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔پاکستانی فوج اس وقت آواران اور خضدار سمیت مکران کے وسیع علاقے میں بیک وقت جارحانہ کارروائیاں کررہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment