بی وائی سی رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن فوزیہ بلوچ شاشانی نے کہا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ پولیس اسٹیشن گئی ہیں تاکہ اپنے بھائی داد شاہ شاشانی کی جبری گمشدگی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکیں، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا اور انہیں کوئی رسید بھی فراہم نہیں کی۔
ان کے مطابق ایس ایچ او نے صرف یہ کہا کہ اپ ڈیٹ کے لیے رات 9 بجے تک انتظار کریں۔
فوزیہ بلوچ کے مطابق ان کے بھائی داد شاہ کو پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے زبردستی اٹھا کر لے جایا ہے۔ یہ ان کی دوسری مرتبہ جبری گمشدگی ہے اور اس واقعے کے وہ خود اور ان کے اہلخانہ چشم دید گواہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں مارا پیٹا گیا، جس کے باعث ان کی حالت انتہائی خراب ہے۔
فوزیہ بلوچ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی آواز بنیں اور اس معاملے پر آواز بلند کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں یا ان کے بھائی کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاست پر عائد ہوگی۔