بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ کے نزدیک شعبان کے علاقے سے 2 افراد کی نعشیں برآمد ہوئی جس کے خلاف علاقہ مکینوں نے نعشوں کے ہمراہ شعبان کراس کو بلاک کرکے احتجاج کیا ۔
احتجاج کے باعث ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز شعبان کے علاقے سے 2 افراد کی نعشیں ملی جن کی شناخت علائو الدین اور بہائو الدین کے نام سے کی گئی۔
ان کے ورثاء اور علاقہ مکینوں نے نعشوں کے ہمراہ شعبان کراس روڈ کو بلاک کرکے احتجاج کیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی ۔
مزید کارروائی مقامی پولیس کررہی ہے۔
دوسری جانب پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ضلع ہرنائی علاقہ زرغون غر کے باشندگان علاؤالدین ولد سعید محمد اور بہاؤالدین ولد عطاءمحمد جنہیں گزشتہ ایک ماہ سے زرغون غر بمقام گاٹی سے اغواءکیا گیا تھا جن کی آج زرغون غر علاقہ گاٹی سے گولیوں سے چھلنی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پارٹی اس بہیمانہ قتل وشہادت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں نوجوانوں کو زرغون غر گاٹی کے مقام سے ایک مہینہ پہلے اغواءکیا گیا تھا آج ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں پھینکی گئی ہیں جس سے علاقے کے عوام میں سخت غم وغصہ اور بدترین تشویش لاحق ہوگئی ہے اور نام نہاد حکومت علاقہ زرغون غر کے عوام کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ۔
پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ حکومتی فوری طور پر تحقیقات کرے اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پشتون اضلاع کے ساتھ کسی کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہاں کسی کی مداخلت برداشت کی جائے گی ۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آئے روز پشتونوںکو صرف مسخ شدہ ، گولیوں سے چھلنی لاشیں مل رہی ہیں جس پر تمام پشتون اضلاع میں سخت تشویش لاحق ہوگئی ہے اور بحیثیت قوم پشتونوں پر روزگار کے دروازے بند کیئے جارہے ہیں۔