کوئٹہ: احتجاجی کیمپ جاری،جبری لاپتہ بصیر سمالانی کے لواحقین کا وی بی ایم پی سے رابطہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ آج بروز جمعرات تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6144ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

شرکاء نے لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ماورائے قانون اقدامات کے خلاف ہر باشعور انسان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز بلند کرے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف متحد ہو کر مؤثر آواز اٹھائیں تاکہ اس سلسلے کا سدباب کیا جا سکے اور لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائی جا سکے۔

دوسری جانب جبری لاپتہ ہونے والے بصیر احمد سمالانی کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ سے رابطہ کرکے ان کی گمشدگی سے آگاہ کیا۔

لواحقین کے مطابق، بصیر احمد سمالانی ولد عبدالعزیز، سکنہ خلق میر محمد خان سمالانی، پنجپائی کو 18 اپریل کی رات تقریباً 3 بجے سیکورٹی فورسز نے الشعیب پارکنگ، نزد شیخ زاید ہسپتال کوئٹہ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اب تک نہ تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی کرب اور پریشانی کا شکار ہے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ نے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ بصیر احمد کے کیس کو ملکی قوانین کے تحت اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

حوران بلوچ نے کہا کہ کسی بھی شہری کو بغیر وارنٹ حراست میں لینا اور اہل خانہ کو معلومات فراہم نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بصیر احمد سمیت تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی دفاع کا حق دیا جائے۔

وی بی ایم پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے آئین اقدامات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور شہریوں کے ساتھ آئین و قانون کے مطابق رویہ اختیار کیا جائے۔

Share This Article