بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بولان میڈیکل کالج (بی ایم سی) کے سامنے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ کئے گئے نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بلوچ کی بازیابی کے لیے دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
خدیجہ بلوچ کو 21 اپریل 2026 کی شب بی ایم سی گرلز ہاسٹل پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، اور تاحال ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والی نرسنگ کی طالبہ خدیجہ بنت پیر جان کی مبینہ گرفتاری اور گمشدگی پر اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہل خانہ نے کہاکہ خدیجہ پیر جان، جو بی ایس نرسنگ کے ساتویں سمسٹر کی طالبہ ہیں اور ان کے فائنل امتحانات 28 اپریل سے متوقع ہیں، کو 21 اپریل 2026 کی شب کوئٹہ میں بولان میڈیکل نرسنگ گرلز ہاسٹل پر کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق کارروائی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر اداروں کے اہلکار شامل تھے جنہوں نے بغیر کسی واضح وجہ کے طالبہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے دوران مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا جس سے ہاسٹل میں موجود دیگر طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
انہوں نے کہا کہ خدیجہ پیر جان اس سے قبل 14 مارچ 2026 کو سی ٹی ڈی کی طلبی پر تربت میں پیش ہو چکی تھیں جہاں تفتیش کے بعد انہیں کلیئر قرار دیا گیا تھا۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ اس کے باوجود دوبارہ کارروائی سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر خدیجہ پیر جان پر دہشتگرد عناصر سے مبینہ روابط کے الزامات سامنے آئے ہیں، تاہم اہل خانہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خدیجہ نہ ماضی میں اور نہ حال میں کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث رہی ہیں۔
اہل خانہ نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ انہیں خدیجہ کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اطلاع فراہم نہیں کی گئی، جبکہ حکومتی دعوے اس کے برعکس ہیں۔
متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ خدیجہ پیر جان کو فوری طور پر بازیاب کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں قانون کے مطابق منصفانہ ٹرائل کا حق دیا جائے، بصورت دیگر انہیں رہا کیا جائے۔
خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی پر بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کی جبری گمشدگیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال اس نہج پر پہنچ رہی ہے کہ ہر گھر اس المیے کا شکار ہو سکتا ہے، کوئی بھی شخص کہیں سے بھی اٹھایا جا سکتا ہے، لاپتہ کیا جا سکتا ہے اور بعد میں دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق ریاست بلوچ عوام کو دبانے کے لیے تمام تر طاقت استعمال کر رہی ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچ قوم متحد ہو کر ان مظالم کے خلاف کھڑی ہو۔