بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی( بساک) نے اپنے عالمی یوم کتاب پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اس دن کو بلوچستان کے اُن نوجوانوں سے منسوب کرتے ہیں جو شعوری بالیدگی کے لیے مطالعہ کرتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی قوم نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا ہے، وہ محض شعوری اور علمی بنیادوں پر ہی ممکن ہوا ہے۔ علم اور شعور کا واحد ذریعہ کتاب ہے، جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جن اقوام کا رشتہ کتاب سے جڑا رہا، وہ آج دنیا میں باشعور اور علم کے خزانوں سے مالامال قومیں کہلاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ غالب اقوام نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ اپنا علم اور تاریخ کتابوں کے ذریعے دوسروں پر مسلط کریں، تاکہ نہ صرف ان کے علم پر انحصار کیا جائے بلکہ اسی کو حرفِ آخر مانا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ جب برطانوی سامراج نے برصغیر اور بلوچستان پر قبضہ کیا، تو سب سے پہلے یہاں کے کتب خانوں اور علمی مراکز کو نشانہ بنایا تاکہ مقامی لوگ اپنے علم کی بدولت سامراجی تسلط کے خلاف کھڑے نہ ہو سکیں اور انہیں نکال باہر نہ کردیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آج جہاں دنیا اسی علم اور کتاب کی بدولت نئی تحقیقات اور ایجادات کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب کتاب بینی کا رجحان سست روی کا شکار بھی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بھی اُنہی طاقتور قوموں کی مہربانی ہے جنہوں نے خود تو علم کے زیور سے آراستہ ہو کر ترقی کی، مگر ترقی پذیر ممالک کے ہاتھ سے کتاب چھین کر انہیں جہالت کی طرف راغب کر دیا۔ جہالت اور تاریکی کے خلاف جنگ کتاب ہی سے شروع ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دانشورانِ قوم، قوم کی امید ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتابیں انقلاب کی روشنی ہیں اور قلم کی طاقت شمشیر سے زیادہ ہے۔
بساک کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک ایسا خلا جنم لے رہا ہے جہاں دن بہ دن کتاب سے رشتہ کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو مطالعہ سے دور ہیں اور اپنی تہذیب، شناخت، ثقافت اور تاریخی وابستگی سے نہ صرف ناآشنا ہیں بلکہ اسے اہمیت بھی نہیں دیتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی استعماری قبضے کے دیرینہ اثرات ہیں۔ لیکن ہماری امید اِس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ اس تیز رفتار دور کی کشمکش میں بھی بلوچستان کے کئی نوجوان ایسے ہیں جو کتابوں سے عشق کرتے ہیں، انہیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ان کی علم دوستی کی واضح مثال یہ ہے کہ نئے سال کے آغاز پر انہیں کتابی میلوں کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور بلوچستان کے کئی علاقے کتابوں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اسی لیے ہم عالمی یومِ کتاب کو بلوچستان کے اِنہی علم دوست نوجوانوں کے نام کرتے ہیں، جو شعوری بالیدگی کے لئے مطالعہ کرتے ہیں۔