بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کولواہ، جھاؤ اور بیسیمہ میں پاکستانی فوجی قافلے اور چوکی پر حملے میں 6 اہلکاروں کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے جس میں متعدد زخمی بھی ہوئے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 22 اپریل 2026 کو آواران کے علاقے کولواہ میں قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ قابض پاکستانی فوج کا یہ قافلہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کی جانب جارحانہ عزائم کے ساتھ حرکت میں تھا۔
ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے دشمن کے قافلے کو کولواہ کے علاقوں گیشکور میں، سحر اور گراڑی کے درمیان گھیرے میں لے لیا اور ان پر راکٹ لانچروں، ایل ایم جیز اور سنائپر رائفلوں سمیت بھاری ہتھیاروں سے شدید حملہ کیا۔اس حملے کے نتیجے میں دشمن فوج کے 6 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، جبکہ دشمن کی گاڑیاں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 22 اپریل 2026 کو بیسیمہ پولیس اسٹیشن کے سامنے قائم فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اسنیپ چیکنگ پوائنٹ پر موجود اہلکاروں پر دستی بم سے حملہ کیا۔ دستی بم گاڑی کے اندر جا گرا، جس کے نتیجے میں ایف سی کو جانی نقصان اٹھانا پڑا اور دھماکے سے گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
تنظیم کے مطابق ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 19 اپریل 2026 کو جھاؤ کے علاقے گجرو سِنگیں میں قائم پاکستانی فوج کی چوکی پر مختلف سمتوں سے راکٹ لانچرز، ایل ایم جی اور دیگر خودکار بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھی متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کولواہ، بیسیمہ اور جھاؤ میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔