پاکستانی فورسز نے ایک اور بلوچ خاتون کواس کے کزن سمیت حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے ۔
واقعہ ضلع خضدار کے علاقے نال میں پیش آیا ہے۔
ضلع خضدار سے موصول اطلاعات کے مطابق رات گئے پاکستانی فورسز نے نال کے علاقے استخلی میں ایک گھر میں داخل ہو کر اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور وہاں موجود ایک خاتون اور اس کے کزن کو اپنے ہمراہ لے گئے۔
فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی خاتون کی شناخت سمینہ دختر دوست محمد سکنہ اورناچ کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ ان کے ہمراہ ان کے چچا زاد بھائی قمبر ولد لطیف کو بھی جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز کے اہلکار انہیں رات 9 بجے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان سمیت کراچی سے تین بلوچ خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں، جن میں گزشتہ شب کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے سی ٹی ڈی اور پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والی میڈیکل طالبہ خدیجہ بلوچ بھی شامل ہیں۔
اسی طرح چار روز قبل پاکستانی فورسز نے کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے نیول کالونی میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے آواران سے تعلق رکھنے والی حسینہ بلوچ کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی اور بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر چھاپوں کے خلاف کوئٹہ میں طلبہ و طالبات کا دھرنا تاحال جاری ہے۔