بلوچستان کے علاقے آواران اور تربت کے علاقے دشت کنچتی میں پاکستانی فورسز پر دو حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
ضلع آواران میں ہفتہ کے روز پاکستانی فورسز کے ایک قافلے پر مسلح افراد کے حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ جانی نقصان کی خبریں سامنے آئی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
مقامی ذرائع اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ آواران کے علاقے آھوری میں پیش آیا، جہاں پاکستانی فورسز کا آٹھ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ نقل و حرکت میں تھا۔
رپورٹس کے مطابق مسلح حملہ آور پہلے سے گھات لگا کر موجود تھے اور انہوں نے قافلے کے مخصوص مقام پر پہنچتے ہی حملہ کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں خودکار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر نہ تو ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی حملے کی نوعیت سے متعلق تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
دوسری جانب تربت کے علاقے دشت کنچتی کراس پر پاکستانی فورسز کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب فرنٹیئر کور (ایف سی) کی بم ڈسپوزل ٹیم سڑک چیکنگ میں مصروف تھی۔
دھماکہ ٹیم کے قریب کیا گیا، جس کے باعث ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی اعداد و شمار تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
تاحال ان حملوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کئے ہیں۔اور نہ ہی حکام کا موقف سامنے آیا ہے۔