نیدرلینڈز میں سیمینار: شہدائے مرگاپ کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کی بنیاد ہیں،ڈاکٹر نسیم بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ (BNM) کے زیرِ اہتمام نیدرلینڈز میں مرگاپ شہداء سیمینار منعقد ہوا، جس میں شہداء مرگاپ کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

یہ سیمینار بی این ایم کی عالمی آگاہی مہم کا حصہ تھا۔

سیمینار کی نظامت مہرا بلوچ نے سرانجام دی، جنہوں نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا اور اتحاد، آگاہی اور عالمی سطح پر بلوچ آواز کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مہرا بلوچ نے سیمینار کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مرگاپ کے شہداء کی قربانیاں بلوچ قوم کی اجتماعی جدوجہد کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر بلوچ آواز کو مزید منظم اور مؤثر انداز میں اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ انصاف اور انسانی حقوق کے لیے جاری جدوجہد کو تقویت ملے۔

سیمینار میں مختلف مقررین نے خطاب کیا، جنہوں نے مرگاپ کے شہداء کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔

مہیم عبدالرحیم نے اپنی تقریر میں مرگاپ کے شہداء کی قربانیوں کو بلوچ قومی جدوجہد کا سنگِ میل قرار دیا۔

انہوں نے بلوچستان میں اجتماعی سزا، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی اداروں کو فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔

جمال بلوچ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مرگاپ کے شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بلوچ قوم کی آزادی کی جدوجہد کو نئی سمت دی۔

انہوں نے عالمی برادری کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

کامران جتوئی نے بلوچستان میں جاری ریاستی جبر، ٹارگٹ کلنگز اور جبری گمشدگیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ مرگاپ کے شہداء کی قربانیاں بلوچ قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور BNM اس جدوجہد کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔

ژالی ولی نے اپنی تقریر میں بلوچ خواتین اور خاندانوں پر پڑنے والے اجتماعی اثرات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ مرگاپ جیسے واقعات نہ صرف نوجوانوں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

نیاز بلوچ نے اپنی تقریر میں بلوچستان میں اجتماعی سزا، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ریاستی جبر کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مرگاپ کے شہداء کی قربانیاں بلوچ قوم کی مزاحمت کی علامت ہیں اور عالمی برادری کو اس صورتحال پر فوری نوٹس لینا چاہیے۔

بی این ایم کے رہنما فہیم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور مرگاپ جیسے واقعات اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ BNM عالمی سطح پر بلوچ قوم کی آواز بننے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

بی این ایم کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنی تقریر میں کہا کہ مرگاپ کے شہداء کی قربانیاں بلوچ قومی تحریک کی بنیاد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری ریاستی جبر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور عالمی اداروں کو اس پر فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

سیمینار کے اختتام پر BNM نے کہا کہ مرگاپ کے شہداء بلوچ قوم کی اجتماعی جدوجہد کا حصہ ہیں۔بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔عالمی برادری کی خاموشی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔بی این ایم اپنی عالمی مہم کے ذریعے بلوچ قوم کی آواز دنیا تک پہنچاتا رہے گا۔

Share This Article