بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے سلسلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 17 سالہ صادق نور اور 19 سالہ قمبر بلوچ کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔
کمیٹی کے مطابق یہ دونوں واقعات بلوچستان میں جاری ریاستی جبر اور قانون کی مکمل عدم موجودگی کی واضح مثالیں ہیں۔
بی وائی سی کے بیان کے مطابق 17 سالہ طالبعلم صادق نور ولد نور اللہ، ساکن گلی باہوٹ بازار بلیدہ، کو 7 ستمبر 2025 کو دوپہر 1:30 بجےآبسر تربت میں فرنٹیئر کور (FC) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کے اہلکاروں نے گھر سے حراست میں لیا۔
گرفتاری کھلے عام ہوئی، مگر نہ کوئی مقدمہ قائم کیا گیا اور نہ ہی عدالت میں پیش کیا گیا۔
اہلخانہ نے 4 ماہ اور 28 دن تک اس کی تلاش جاری رکھی، مگر ریاستی اداروں نے اس کی گرفتاری سے مکمل انکار کیا۔
10 اپریل 2026 کو اس کی لاش کیچ کور تربت میں پھینکی ہوئی ملی۔
بی وائی سی نے اسے واضح حراستی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب طالبعلم بھی محفوظ نہیں تو پھر کس کی زندگی محفوظ رہ جاتی ہے۔
بی وائی سی کے مطابق 19 سالہ طالبعلم قمبر بلوچ ولد خدا بخش، ساکن سلو بلیدہ، کو 7 اکتوبر 2025 کو گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
اہلخانہ نے 6 ماہ تک اس کی بازیابی کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، مگر کوئی جواب نہ ملا۔
8 اپریل 2026 کو اس کی لاشڈی بلوچ تربت میں پھینکی ہوئی ملی، جس پر گولیوں کے نشانات اور شدید تشدد کے آثار موجود تھے۔
بی وائی سی نے کہا کہ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری تشدد، اذیت اور ماورائے عدالت قتل کی سنگین حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ بلوچستان میں قانون کی حکمرانی موجود نہیں۔نوجوانوں کو بغیر جرم، بغیر مقدمہ، بغیر عدالت اٹھایا اور قتل کیا جا رہا ہے۔یہ واقعات انفرادی نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں۔خاندانوں کو لاشیں تھما کر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔جبری گمشدگیاں، ٹارگٹ کلنگز اور حراستی قتل روزانہ بڑھ رہے ہیں۔
بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانونی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے اور آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔