بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹلز کی بندش ناقابلِ قبول ہے، بساک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، کوئٹہ زون کے ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی جہاں ایک جانب گزشتہ چار ماہ بند ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثر پڑا ہے، وہیں دوسری جانب ایک دو ہفتے قبل یونیورسٹی کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود ہاسٹلز تاحال بند ہیں۔ طلبہ کا تعلیمی سال پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے، جبکہ ہاسٹلز کی مسلسل بندش اس میں مزید اضافے کا باعث بنے گی۔ بلوچستان کے طلبہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے پاس شال میں رہائش کی کوئی دوسری سہولت میسر نہیں، لیکن رجسٹریشن کے نام پر ہاسٹلز کو بند رکھ کر طلبہ کے لیے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں۔

ہمیں خدشہ ہے کہ ہاسٹلز کی فیس میں اضافے اور اضافی رقوم بٹورنے کے لیے انہیں تاحال بند رکھا گیا ہے، جو کہ طلبہ کے ساتھ صریحاً ناانصافی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھاری رقم ہڑپنے کے لیے طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگایا جا رہا ہے، کیونکہ دور دراز کے طلبہ تب تک نہیں آ سکتے جب تک ہاسٹلز ان کے لیے کھول نہیں دیے جاتے۔ اگر یہ رجسٹریشن اتنی ہی اہم تھی تو انتظامیہ کو یہ عمل کلاسز کے آغاز سے پہلے مکمل کرنا چاہیے تھا، نہ کہ اب جب طلبہ رہائشی سہولت نہ ہونے کے باعث انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔

ہمارا موقف ہے کہ یہ اقدامات طلبہ کے تعلیمی مسائل میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومتِ بلوچستان اور یونیورسٹی انتظامیہ ان حالات کا فوری نوٹس لے کر ہاسٹلز کو فی الفور بحال کرے۔ بصورتِ دیگر، ہم دیگر طلبہ تنظیموں کے ساتھ مل کر طلبہ حقوق کے تحفظ کے لیے سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

Share This Article