سوراب سے 2 افراد جبری لاپتہ ، کراچی سے 2 نوجوان بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع سوراب سے 8 اپریل 2026 کو مین آر سی ڈی روڈ پر پاکستانی فورسز نے دو نوجوانوں کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا ، جبکہ پنجگور سے تعلق رکھنے والے 2 افراد جنہیں کراچی رئیس گوٹھ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا ،تقریباً چار ماہ بعد بازیاب ہو گئے ہیں۔

سوراب کے علاقے ماراپ سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ نجیب اشرف، ولد محمد اشرف جو ایف ایس سی کے طالب علم ہیں، کو 8 اپریل 2026 کی دوپہر تقریباً 3 بجے مین آر سی ڈی روڈ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

اسی روز سوراب ہی کے علاقے رودینی (مستقل رہائش نصیرآباد) سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ اللہ بخش، ولد عبدل کریم جو محنت کش ہیں، کو بھی اسی مقام اور اسی وقت ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب، پنجگور کے علاقے گرمکان سے تعلق رکھنے والے2 افراد کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔

بازیاب ہونے والوں میں اشفاق بلوچ، ولد اسد اللہ اور دل جان بلوچ، ولد در محمد شامل ہیں۔ دونوں کو 5 جنوری 2026 کو پنجگور سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا تھا۔

مقامی ذرائع کے مطابق دونوں افراد کو 9 اپریل 2026 کو چتکان، پنجگور کے علاقے سے رہا کیا گیا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اشفاق بلوچ اور دل جان بلوچ کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی رئیس گوٹھ سے رواں سال 5 جنوری کو جبری لاپتہ ہونے والے بلوچی زبان کے گلوکار دل جان اور اشفاق بلوچ بازیاب ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ایک مثبت عمل ہے، جسے ہم سراہتے ہیں، اور امید کرتے ہیں کہ دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی جبری گمشدگیوں کے مکمل سدباب کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

Share This Article