بلوچستان کی سزمین پر زندگی ہمیشہ سے ہی کٹھن رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں یہاں کی معیشت کے گرد جو گھیرا تنگ کیا گیا ہے اس نے عام آدمی کے جینے کا ڈھنگ بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک عام بلوچ کے لیے بارڈر محض ایک لکیر نہیں تھی، بلکہ یہ اس کے کچن کا چولہا اور بچوں کی اسکول فیس کی ضمانت تھی۔
جب ریاست نے یکلخت ان راستوں کو مسدود کیا، تو اس کا اثر صرف اسمگلنگ یا تجارت کے خاتمے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک سنگین سماجی بحران کو جنم دیا۔ جب پیٹ خالی ہو اور سامنے کوئی راستہ نہ ہو، تو انسان کی انا اور اس کی غیرت کو آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جہاں ریاست نے شعوری طور پر روزگار کے دروازے بند کر کے ایک ایسی خلا پیدا کی ہے جس کا مقصد عوام کو متبادل کے طور پر ایک ایسے راستے کی طرف دھکیلنا ہے جو ان کی اپنی ہی زمین اور اپنوں کے خلاف جاتا ہے۔
اس معاشی ناکہ بندی کے پیچھے ایک گہری نفسیاتی چال نظر آتی ہے، جس کا مقصد عام بلوچ نوجوان کو اس حد تک مجبور کر دینا ہے کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لیے کسی بھی سمجھوتے پر تیار ہو جائے۔ جب قانونی اور روایتی روزگار کے ذرائع ختم ہو جاتے ہیں، تو "ڈیتھ اسکواڈز” اور مخبری کے نیٹ ورکس ایک پرکشش، بلکہ شاید واحد "ملازمت” کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا جال ہے جہاں غربت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔
ریاست جانتی ہے کہ بھوک انسان سے وہ کچھ کروا لیتی ہے جو وہ عام حالات میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ یوں، وہ ہاتھ جو محنت مزدوری کے عادی تھے، اب چند ٹکوں اور تحفظ کے جھوٹے وعدوں کے عوض بندوق اٹھانے یا اپنے ہی بھائیوں کی جاسوسی کرنے پر مجبور کیے جا رہے ہیں، تاکہ سماج کے اندرونی ڈھانچے کو کمزور کیا جا سکے۔
یہ پالیسی دراصل سماج کو اندر سے تقسیم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ جب ایک شخص اپنے گھر والوں کو بھوک سے بلکتا دیکھتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ مخبری کرنے یا کسی گروہ کا حصہ بننے سے اسے نہ صرف پیسے ملیں گے بلکہ اسے "ریاست کا وفادار” بھی سمجھا جائے گا، تو اس کے لیے انکار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا کربناک انتخاب ہے جہاں ایک طرف بھوک ہے اور دوسری طرف ضمیر کا سودا۔
ریاست نے جان بوجھ کر ایسی فضا قائم کر دی ہے جہاں عزت نفس اور زندہ رہنے کے درمیان فاصلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ بلوچ معاشرے میں باہمی اعتماد کی وہ دیواریں بھی گر رہی ہیں جو صدیوں سے ان کی طاقت رہی ہیں۔
مخبری اور ڈیتھ اسکواڈز کے اس کلچر کو پروان چڑھا کر دراصل ایک مصنوعی طبقہ پیدا کیا جا رہا ہے جو اپنی بقا کے لیے ریاست کی پالیسیوں کا محتاج ہو۔ جب بارڈر کھلنا یا بند ہونا کسی کے "وفادار” ہونے سے مشروط کر دیا جائے، تو وہ سرحد جو پہلے پورے علاقے کو پالتی تھی، اب صرف چند مخصوص لوگوں کے لیے مال کمانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں ریاست خود ایک منصف کے بجائے ایک فریق بن کر سامنے آتی ہے اور اپنے ہی شہریوں کو معاشی طور پر اپاہج کر کے انہیں اخلاقی گراوٹ کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس طرح کی حکمتِ عملی سے عارضی طور پر تو لوگوں کو خاموش کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ دلوں میں نفرت اور انتقام کی ایسی آگ بھڑکاتی ہے جو کبھی نہیں بجھتی۔
ریاست کی تمام تر معاشی جکڑ بندیوں اور "بھوک” کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اس چال کے سامنے بلوچ کی فطری غیرت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ضمیر کا سودا وہی کرتے ہیں جن کی مٹی سے جڑیں کمزور ہوں۔ بلوچ نوجوان کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ میز پر رکھی وہ "نانِ خشک” جو محنت اور ایمانداری سے حاصل کی گئی ہو، اس شاہی ضیافت سے ہزار گنا بہتر ہے جو اپنے ہی بھائیوں کی مخبری یا اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے عوض حاصل ہو۔ یہ معاشی جبر دراصل ایک امتحان ہے، جس میں دشمن یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کیا بھوک غیرت پر غالب آ سکتی ہے؟ لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں کا انسان فاقہ کشی تو قبول کر سکتا ہے، مگر اپنی سرزمین اور اپنی نسلوں کے مستقبل کا سودا کبھی نہیں کرے گا۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس پروپیگنڈے اور لالچ کے جال کو پہچانیں جو نہایت خوبصورتی سے "ملازمت” اور "تحفظ” کے نام پر پھیلایا گیا ہے۔ ریاست کا فراہم کردہ یہ لقمہ دراصل وہ زہر ہے جو انسان کی اخلاقی موت کا سبب بنتا ہے۔ اگر آج دو وقت کی روٹی کے لیے کسی "ڈیتھ اسکواڈ” یا مخبری کے نیٹ ورک کا حصہ بنا گیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نانِ خشک کھا کر عزت کی زندگی گزارنا، اس ذلت آمیز آسائش سے بہتر ہے جو ہماری اپنی ہی شناخت اور اتحاد کی قیمت پر مل رہی ہو۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بنے رہیں گے، بھوک ہمیں کمزور نہیں کر سکتی، بلکہ یہ ہمیں مزید پختہ کرے گی کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر اپنے وسائل کا دفاع کریں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف زمین کا نہیں بلکہ انسانوں کا ہے۔ جب ریاست اپنے لوگوں کو تحفظ اور روزگار دینے کے بجائے انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنانے پر تُل جائے، تو وہ اپنی اخلاقی ساکھ کھو دیتی ہے۔ بارڈر بند کرنا اور پھر اسے چند روپوں کے عوض مخبری سے جوڑنا ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس کا مداوا شاید دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نہ ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچ نوجوان کو بندوق یا مخبری کے بجائے قلم، روزگار اور عزت دی جائے، ورنہ بھوک اور جبر کا یہ گٹھ جوڑ صرف تباہی ہی لائے گا۔
انسانیت کا تقاضا تو یہی ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرے، نہ کہ ایک ایسے شکاری کا جو اپنے ہی شکار کو بھوک کے جال میں پھنسا کر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ بلوچ کا پیٹ تو خالی ہو سکتا ہے، لیکن اس کا ضمیر ہمیشہ بیدار رہتا ہے اور یہی بیداری ہی دشمن کی سب سے بڑی شکست ہے۔
***