بی ایل ایف: مند اور پروم میں پاکستانی فوج پر حملوں میں2 اہلکار ہلاک، گرفتار پولیس اہلکار رہا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں مند اور پروم میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور متعددکو زخمی کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جبکہ ایک زیر حراست پولیس اہلکارکو بھی رہاکردیا گیا۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 9 اپریل 2026 کو مند کے علاقے ردیگ اور مہیر کے درمیان کُڈومب کے مقام پر پاکستانی فوج کے قافلے کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو آئی ای ڈی (IED) دھماکے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
 
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں سرمچاروں نے 8 اپریل 2026 کو پنجگور کے علاقے پروم میں ٹوبہ کے مقام پر قائم فرنٹیر کور (ایف سی) کے کیمپ پر حملہ کیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب اہلکار کیمپ کیلئے حفاظتی باڑ لگانے میں مصروف تھے۔ سرمچاروں نے ان پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک ایف سی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
 
علاوہ ازیں، بی ایل ایف کی تحویل میں موجود پولیس افسر، ڈی ایس پی انور علی کو ان کے بیٹے سمیت رہا کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے علاقے بھرام کے رہائشی ڈی ایس پی انور علی کو گزشتہ ماہ خضدار کے علاقے کرخ سے ایک کارروائی کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ بی ایل ایف نے اپنی روایتی بلوچ قومی اخلاقیات اور اعلیٰ انسانی مقاصد کے  پیشِ نظر، انور علی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا۔ سرمچاروں نے اسے  سخت تنبیہ کی کہ آئندہ تحریک آزادی اور عوام کی دشمنی سے گریز کرے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری جنگ کسی فردِ واحد سے نہیں بلکہ سرزمین پر قابض استعماری نظام کے خلاف ہے، تاہم تحریک کے مفادات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح رہے گی۔
 
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ، مند میں فوجی قافلے کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر آئی ای ڈی حملے اور پروم میں فوجی کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

Share This Article