بلوچستان کے ضلع کیچ اور تربت شہر کے مضافات میں جمعرات کے روز مسلح جھڑپوں اور حملوں کے دو بڑے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں فورسز کو جانی و مالی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق تربت شہر کے نواحی علاقے میں ایک بڑی تعداد میں مسلح افراد نے تین گھنٹے تک ناکہ بندی قائم رکھی اور قریبی پولیس چوکی کا کنٹرول سنبھال کر اہلکاروں سے اسلحہ اور سامان قبضے میں لے لیا۔
اس دوران علاقے میں شدید کشیدگی پائی گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسی دوران پاکستانی فوج کا چھ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ علاقے میں داخل ہوا، جسے مسلح افراد نے مشاللہ ہوٹل کے قریب گھات لگا کر نشانہ بنایا۔
حملے کے بعد دونوں جانب سے چالیس منٹ سے زائد فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جبکہ فورسز کو جانی نقصان اور گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران فوج کے استعمال کردہ کواڈ کاپٹرز کو بھی نشانہ بنا کر گرایا گیا۔
اسی وقت ایک اور گروہ نے شہداد ہوٹل کے قریب ایک ٹاور اور دو نگرانی کیمروں کو تباہ کر دیا، جس سے علاقے میں نگرانی کا نظام متاثر ہوا۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے مند میں جمعرات کی صبح فرنٹیئر کور (FC) کے اہلکاروں پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ ایک قافلے کو سیکیورٹی فراہم کر رہے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں ایک ایف سی اہلکار موقع پر ہلاک ہوا۔
حکام کی جانب سے ان واقعات پر تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ہفتوں کے دوران مسلح کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
اب تک ان کارروائیوں کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔