جامعہ بلوچستان ہاسٹلز کی بندش طلبہ دشمن اقدام ہے جو کسی صورت قبول نہیں، بی ایس او

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن شال زون ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جامعہ بلوچستان کے ہاسٹلز کی بندش کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اسے ایک کھلی طلبہ دشمن پالیسی قرار دیتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب جامعہ میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر جاری ہیں، ہاسٹلز کو بند کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یہ اقدام خصوصاً بلوچستان کے غریب اور دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبہ و طالبات کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے، جو تعلیم کے حصول کے لیے انہی ہاسٹلز پر انحصار کرتے ہیں۔

ہاسٹلز کی بندش دراصل بلوچ طلبہ کے تعلیمی راستے کو مسدود کرنے کی ایک منظم کوشش ہے تاکہ انہیں اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جا سکے اور بلوچ قوم کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیلا جائے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے محروم رکھنے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی اور ایسے تمام اقدامات کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

مزید برآں، جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ بالخصوص پرو وائس چانسلر کی کارکردگی انتہائی تشویشناک ہے۔ بدعنوانی، بدانتظامی اور غیر سنجیدہ فیصلوں نے ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ طلبہ کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کرنا اور ان کے حقوق سلب کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ انتظامیہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

بی ایس او شال زون خبردار کرتی ہے کہ ہاسٹلز کی بندش جیسے فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر طلبہ شدید احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری جامعہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ تعلیم ہر طالب علم کا بنیادی حق ہے اور ہم کسی بھی صورت اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

Share This Article