امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں تباہ ہونے والے امریکی جنگی طیارے کے لاپتا کریو ممبر کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ریسکیو کیے گئے ’’قابلِ احترام کرنل‘‘ کو چوٹیں ضرور آئی ہیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ صحت یاب ہو جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس مشن کے لیے ’’درجنوں امریکی طیارے‘‘ روانہ کیے گئے تھے، جبکہ ریسکیو آپریشن کی کامیابی کی فوری تصدیق اس لیے نہیں کی گئی کہ ایک اور جاری ریسکیو مشن کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
بی بی سی کے وائٹ ہاؤس نامہ نگار برینڈ ڈیبسمین کے مطابق ریسکیو آپریشن کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا بھی ہوا۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جس مقام سے امریکی اہلکار کو تلاش کیا گیا، وہاں امریکی بمباری کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے۔
ریسکیو کیا گیا اہلکار ہتھیاروں کے نظام کا افسر تھا اور اس ایف-15 طیارے میں سوار تھا جسے جنوبی ایران میں مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ اور ایران دونوں نے لاپتا اہلکار کی تلاش کے لیے الگ الگ کوششیں جاری رکھی تھیں۔ ایرانی حکومت نے بھی اس اہلکار کی تلاش میں مدد دینے والوں کے لیے 66 ہزار امریکی ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کریو ممبر کو تلاش کرنے والے ایک ڈرون طیارے کو اصفہان میں مار گرایا گیا ہے۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ریسکیو آپریشن کی کامیابی کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔