ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دبئی میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
پاسداران کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز ایرانی شخصیت کمال خرازی اور ان کی اہلیہ پر ہونے والی مبینہ قاتلانہ حملے کے جواب میں کی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملے میں خرازی زخمی جبکہ ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔
تاہم دبئی انتظامیہ نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوریکل کے کسی ڈیٹا سینٹر پر حملہ نہیں ہوا۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ:
"جیسا کہ ہم پہلے خبردار کر چکے تھے، ایرانی شخصیات کے قتل کے بدلے میں ہم اُن جاسوس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے جو دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی بنیاد ہیں۔ آج بھی ڈاکٹر خرازی اور ان کی اہلیہ کے قتل کے جواب میں متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی کمپنی اوریکل کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”
اس سے قبل پاسداران نے بحرین میں ایمیزون کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
مزید برآں، ایران نے حال ہی میں امریکی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کی ایک فہرست جاری کی تھی جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، میٹا، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا اور بوئنگ شامل ہیں، اور انہیں مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تنصیبات پر ممکنہ حملوں سے خبردار کیا گیا تھا۔
اسی تناظر میں ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود میں ایک ایف‑35 جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری کے مطابق:
"ایک ایف‑35 جنگی طیارہ وسطی ایران کی فضاؤں میں نشانہ بنائے جانے کے بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ دھماکے کی شدت کے باعث امکان کم ہے کہ پائلٹ باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہو۔”
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ طیارہ پاسدارانِ انقلاب کے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا گیا۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
البتہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ روز ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قشم جزیرے کے قریب ایک جنگی طیارہ مار گرایا گیا ہے۔
تقریباً دو ہفتے قبل بھی ایران نے ایک ایف‑35 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی تھی کہ ایک ایف‑35 مشن مکمل کرنے کے بعد تکنیکی مسئلے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا۔
ایرانی شخصیات پر حملوں کے بعد امریکی ٹیک کمپنیوں کو نشانہ بنانے اور ایف35 طیارہ مار گرانے کے دعوے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے جاری تردیدوں اور دعوئوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔