بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے بلوچستان میں پرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف بڑھتی ہوئی ریاستی دباؤ، زبردستی اور ہراسانی کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر اس سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق حالیہ ہفتوں میں متعدد شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کو سیکیورٹی اداروں کے دفاتر میں طلب کرکے ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ویڈیو بیانات ریکارڈ کریں،بی وائی سی سے لاتعلقی کا اعلان کریں اور تنظیم کے مقاصد کے بارے میں گمراہ کن دعوے کریں۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بنیادی سیاسی آزادیوں کی خلاف ورزی ہیں بلکہ شہریوں میں خوف پھیلانے کی منظم کوشش بھی دکھائی دیتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات پاکستان کے آئین سے متصادم ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیِ اظہار کا حق دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 16 پرامن اجتماع کی آزادی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ شہریوں کو زبردستی جھوٹے بیانات دینے پر مجبور کرنا یا پرامن تنظیموں سے وابستگی روکنا ان آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
بی وائی سی نے مزید کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے بھی منافی ہیں، جن میں عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) شامل ہیں، جو اظہارِ رائے، پرامن اجتماع اور تنظیم سازی کے حقوق کی حفاظت کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کے محافظین، میری لاؤلر، نے بھی حالیہ بیانات میں پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو درپیش ہراسانی پر تشویش ظاہر کی ہے اور خاص طور پربی وائی سی کے اراکین اور حامیوں کے خلاف اقدامات کو اجاگر کیا ہے۔
بی وائی سی کے مطابق پرامن آوازوں کو دبانے سے امن قائم نہیں ہوتا بلکہ عدم اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔
تنظیم نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں اور پاکستانی حکام سے بنیادی حقوق کے تحفظ اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کریں۔
بیان کے آخر میں کہا گیا کہ بلوچ قوم پرامن جدوجہد، انسانی وقار اور انصاف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اور دباؤ بڑھنے سے ان کے عزم میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔