پاکستان میں جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ایک سوال شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ کیا پاکستان ہمسایہ ملک ایران سے سستا پیٹرول نہیں خرید سکتا؟ بظاہر یہ ایک سادہ اور عوامی نوعیت کا سوال ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے عالمی سیاست، معاشی مجبوریوں اور ریاستی ترجیحات کا ایک پیچیدہ اور گنجلک جال موجود ہے، جسے سمجھے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔
اصل رکاوٹ عالمی پابندیاں ہیں۔ ایران پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں کسی بھی ملک کے لیے اس کے ساتھ کھلی تجارت کو نہایت مشکل بنا دیتی ہیں۔ یہ پابندیاں صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ بینکاری نظام، مالیاتی لین دین اور عالمی منڈی تک رسائی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ ملک واضح اور خودمختار معاشی و سیاسی پالیسی تشکیل دینے میں ناکام رہا ہے۔ نتیجتاً پاکستان ہمیشہ غیر ملکی قرضوں اور مالیاتی امداد پر انحصار کرتا آیا ہے۔ ہر حکومت، چاہے وہ سویلین ہو یا عسکری، اپنی بقا کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے جھکنے پر مجبور رہی ہے۔ اس صورتحال نے پاکستان کو ایک ایسے دائرے میں قید کر دیا ہے جہاں ہر بڑا معاشی فیصلہ عالمی دباؤ کے تحت لیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران سے براہ راست پیٹرول خریدنے کا فیصلہ صرف ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اعلان ہوگا۔ ایک ایسا اعلان جو پاکستان کو عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے ساتھ ٹکراؤ کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں اسلام آباد کے پاس نہ تو اتنی معاشی سکت ہے اور نہ ہی سیاسی جرات کہ وہ اس قسم کا کوئی فیصلہ کر سکے۔
ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کا منصوبہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔ برسوں سے یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی علامت سمجھا جاتا رہا، مگر عملی طور پر یہ کبھی مکمل نہ ہو سکا۔ ہر بار جب اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی، عالمی دباؤ اور پابندیوں نے اس کی راہ روک لی۔ یہ منصوبہ آج بھی کاغذوں میں زندہ ہے، مگر زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی توانائی پالیسی مکمل طور پر خودمختار نہیں ہے۔ یہ عالمی طاقتوں، مالیاتی اداروں اور خطے کی "جیو پولیٹکس” کے زیر اثر تشکیل پاتی ہے۔ ایسے میں ایران سے سستا پیٹرول خریدنے کا خواب صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی جرات کا بھی تقاضا کرتا ہے، ایک ایسی جرات جو موجودہ حکمران طبقات میں دکھائی نہیں دیتی۔
ایک اور اہم پہلو جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ سرحدی علاقوں کی زمینی حقیقت ہے۔ ایران کے اس پار "مغربی بلوچستان” اور پاکستان کے اس طرف "مشرقی بلوچستان” واقع ہے، جہاں صدیوں سے بلوچ آبادی آباد ہے۔ دونوں اطراف کے لوگوں کے درمیان ثقافتی، سماجی اور معاشی روابط ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر تجارت، خصوصاً پیٹرول اور دیگر اشیاء کی ترسیل، ایک معمول کی بات رہی ہے۔
تاہم حالیہ عرصے میں پاکستانی حکام کی جانب سے اس سرحدی تجارت پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے باعث نہ صرف یہ غیر رسمی معیشت متاثر ہوئی بلکہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا۔ ریاستی نقطہ نظر سے یہ اقدامات قانونی اور سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیے گئے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان پابندیوں نے مقامی آبادی کو مزید معاشی مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔
"گولڈ اسمتھ لائن”، جو تقریباً نو سو کلومیٹر طویل سرحدی لکیر ہے اور دونوں ممالک کو جدا کرتی ہے۔ یہ سرحد ضلع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر سے گزرتی ہے۔ اس طویل سرحد کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارت نہ ہونے کے برابر ہے، جو ایک بڑا معاشی المیہ ہے۔ اگر اس سرحد کو مؤثر تجارتی راہداری میں تبدیل کیا جائے تو نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
لیکن یہاں بھی وہی سوال آڑے آتا ہے کہ کیا پاکستان اس حد تک آزاد ہے کہ وہ اپنی سرحدی اور توانائی پالیسیوں کو خودمختاری کے ساتھ ترتیب دے سکے؟
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ایران سے پیٹرول خریدا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی میں اتنی خودمختاری رکھتا ہے کہ وہ اپنے عوام کے لیے سستے توانائی ذرائع کا انتخاب کر سکے؟
جب تک اس سوال کا جواب نفی میں رہے گا، سستا ایرانی پیٹرول عوام کے لیے صرف ایک خواب ہی رہے گا، ایسا خواب جو سرحد کے اُس پار حقیقت کا روپ دھار چکا ہے، مگر اس پار صرف حسرت، محرومی اور انتظار کی صورت میں زندہ ہے۔
٭٭٭