سرمچار کا جسدِ خاکی : ریاست کا سب سے بڑا خوف | پھل جان خارانی

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

بلوچستان کی سنگلاخ زمین پر جب کوئی سرمچار اپنی جان وطن کیلئے قربان کرتا ہے، تو اس کے بعد شروع ہونے والا عمل محض ایک میت کی تدفین کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک نئی سیاسی اور نفسیاتی جنگ کا نقطہ آغاز بن جاتا ہے۔ ریاست کی جانب سے ان لاشوں کو اپنے قبضے میں لینا یا انہیں ورثاء کے حوالے کرنے سے گریز کرنا، ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس کے پیچھے سب سے بڑا خوف وہ "جنازہ” ہے جو ہزاروں، لاکھوں لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ایک جنازہ جب سڑکوں پر نکلتا ہے، تو وہ صرف ایک میت کا آخری سفر نہیں ہوتا بلکہ ریاست کے بیانیے کے خلاف ایک بہت بڑا عوامی ریفرنڈم بن جاتا ہے۔ ریاست اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ ایک خاموش لاش، جنازے کی صورت میں ہزاروں زبانیں بن کر بولنا شروع کر دیتی ہے۔

جنازوں میں عوام کی کثیر تعداد میں شرکت ریاست کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی دباؤ اور عالمی سطح پر سبکی کا باعث بنتی ہے۔ جب ہزاروں لوگ تمام تر خوف اور سیکیورٹی کے حصاروں کو توڑ کر ایک سرمچار کے آخری دیدار کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو یہ منظر دنیا کو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ بلوچ عوام کے دلوں میں ریاست کے لیے کیا جذبات ہیں اور ان لوگوں کے لیے کتنی عقیدت ہے جنہیں وہ اپنی آزادی کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ ریاست یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ بین الاقوامی میڈیا یا انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ دیکھیں کہ جس شخص کو سرکاری کاغذوں میں "دہشت گرد” لکھا گیا، اس کے جنازے پر پورا شہر آنسو بہا رہا ہے اور اسے ہیرو کا درجہ دے رہا ہے۔ یہ عوامی سمندر ریاست کے اس دعوے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکتا ہے کہ ان تحریکوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔

اس ناکہ بندی اور لاشوں کو قبضے میں لینے کا ایک مقصد تحریک کو "خاموش” کرنا بھی ہوتا ہے۔ ریاست سمجھتی ہے کہ اگر جنازہ دھوم دھام سے اٹھے گا، تو اس سے تحریک کو نئی زندگی ملے گی اور نوجوانوں کے اندر جوش و جذبہ مزید بڑھے گا۔ ایک بڑا جنازہ سوگ کے بجائے ایک احتجاجی ریلی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں برسوں کا جمع شدہ غم و غصہ نعروں کی صورت میں پھٹ پڑتا ہے۔ ایسا ماحول ریاست کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے، لہٰذا لاشوں کو غائب کرنا یا نامعلوم مقامات پر دفن کر دینا دراصل اس عوامی طاقت کو کچلنے کی ایک کوشش ہے جو ایک جنازے کی صورت میں یکجا ہو سکتی ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ موت کا یہ سفر خاموشی سے گزر جائے تاکہ کوئی دوسرا اس سے متاثر ہو کر اسی کٹھن راستے کا انتخاب نہ کرے۔

نفسیاتی طور پر، جب ریاست ایک خاندان سے ان کے پیارے کی آخری رسومات کا حق چھینتی ہے، تو وہ پورے سماج کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ "تمہاری موت پر رونے والا بھی کوئی نہیں ہوگا”۔ لیکن بلوچ معاشرے میں اس کا اثر ہمیشہ الٹ ہوتا ہے۔ جب ریاست لاش کو قبضے میں لیتی ہے، تو لوگوں کی نفرت میں مزید شدت آتی ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جو طاقت ایک بے جان جسم سے اتنا ڈرتی ہے، وہ زندہ انسانوں کو کیا حقوق دے گی؟ یہ عمل سرمچاروں اور عوام کے درمیان محبت کے رشتے کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ جنازے کی شرکت سے روکنا دراصل اس سچائی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے کہ بلوچ سماج اپنے ان بیٹوں کو اپنا نجات دہندہ مانتا ہے جو پہاڑوں پر اپنی زندگیاں قربان کر رہے ہیں۔

ریاست کا یہ رویہ اس گہرے خوف کی علامت ہے کہ ایک بے جان جسدِ خاکی بھی ان کے بنے بنائے بیانیے کو پاش پاش کر سکتا ہے۔ جب ایک جنازہ شہر کی گلیوں سے گزرتا ہے، تو وہ صرف ایک خاندان کا ذاتی ماتم نہیں رہتا، بلکہ ایک اجتماعی احتجاج بن جاتا ہے۔ ہزاروں لوگوں کا اکٹھا ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہر قسم کے جبر اور معاشی تنگدستی کے باوجود، بلوچ قوم کا اپنے مقصد سے رشتہ ٹوٹا نہیں ہے۔ ریاست چاہتی ہے کہ ان اموات کو "عبرت” بنا کر پیش کرے، لیکن جب لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، تو وہ موت "خوف” کے بجائے "افتخار” بن جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب تمام سیکیورٹی ادارے خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، کیونکہ آپ زندہ انسانوں کو تو جیلوں میں ڈال سکتے ہیں، لیکن کسی کے دل میں موجود عقیدت پر پہرہ نہیں بٹھا سکتے۔

لاشوں کی بے حرمتی یا انہیں ورثاء کے حوالے نہ کرنا بلوچ روایات اور انسانی اقدار پر بھی ایک کاری ضرب ہے۔ بلوچ معاشرے میں میت کو عزت کے ساتھ سپردِ خاک کرنا ایک مقدس فریضہ ہے۔ جب ریاست اس میں رکاوٹ بنتی ہے، تو وہ شعوری طور پر پورے سماج کو اشتعال دلاتی ہے۔ اس کا مقصد شاید یہ ہوتا ہے کہ عوام ردِعمل میں کوئی ایسی غلطی کریں جس کا بہانہ بنا کر مزید کریک ڈاؤن کیا جا سکے، لیکن یہاں بھی ریاست کو اخلاقی ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔ جب ایک ماں اپنے بیٹے کی لاش کے لیے سڑک پر بیٹھتی ہے، تو وہ منظر کسی بھی مسلح کارروائی سے زیادہ ریاست کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ یہ وہ اخلاقی شکست ہے جسے چھپانے کے لیے لاشوں کو فولادی پہروں میں قید کیا جاتا ہے۔

جنازے میں شریک ہر شخص دراصل ایک خاموش اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ وہ جبر کے اس نظام کو تسلیم نہیں کرتا۔ جب ایک نوجوان اپنے ہیرو کا جنازہ دیکھتا ہے، تو اس کے ذہن میں یہ تجسس پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا نظریہ تھا جس کے لیے کسی نے اپنی جوانی وار دی۔ ریاست اسی سوال کے پیدا ہونے سے خائف ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ نئی نسل ان جنازوں سے حوصلہ پائے، وہ چاہتی ہے کہ ہر سرمچار کی موت ایک گمنام واقعہ بن کر رہ جائے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے؛ جتنا زیادہ جنازوں پر پابندی لگائی جاتی ہے، لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے اتنی ہی زیادہ تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ پریشر ہے جو ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کی یہ خاموش ہمدردی کسی بھی وقت ایک بے قابو طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

لاشوں کو قبضے میں لینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی شکست کا اعتراف ہے۔ اگر ریاست کو یقین ہوتا کہ عوام اس کے ساتھ ہے، تو اسے کبھی ایک میت سے ڈرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ جنازوں میں ہزاروں کا مجمع اس بات کی مہر ہے کہ بلوچ عوام اپنی جدوجہد کو حق بجانب سمجھتی ہے۔ ریاست کا یہ جبر دراصل اس محبت کو کم کرنے کے بجائے اسے ابدی بنا دیتا ہے۔ قبریں مٹائی جا سکتی ہیں، لیکن وہ یادیں اور جذبے جو ان جنازوں سے جنم لیتے ہیں، وہ کبھی فنا نہیں ہوتے۔ یہ ریاست کی سب سے بڑی بھول ہے کہ وہ مٹی کے ڈھیر کو قید کر کے کسی نظریے کو دفن کر سکتی ہے۔

٭٭٭

Share This Article