بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری،مزید 4 لاپتہ ، خاتون سمیت 9 بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدگیوں کے تازہ واقعات اور بعد ازاں بعض افراد کی بازیابی کی اطلاعات نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق متعدد اضلاع میں شہریوں کو حراست میں لینے اور کئی دنوں بعد رہا کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پنجگور کے علاقے پروم میں 16 مارچ 2026 کو جیرک کراسنگ پوائنٹ سے چار افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ محسن ولد مسلم، یحییٰ ولد محمد یاسین اور عبدالاہد ولد ملا نزار ان افراد میں شامل ہیں جنہیں اہلِ خانہ کے مطابق پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا۔

اسی علاقے کے رہائشی زمیاد ڈرائیور کریم ولد عبدالراشد کو 2 اپریل 2026 کو جوسک، تربت سے لاپتہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کریم اس سے قبل بھی جبری گمشدگی کا شکار رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب کچھ افراد کی بازیابی کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کے جیلانی روڈ سے یکم مارچ کو لاپتہ ہونے والے فہیم سملانی ولد محمد عثمان کو 21 مارچ کو ائیرپورٹ روڈ کے قریب رہا کر دیا گیا۔

خضدار کے علاقے گزگی سے 20 فروری کو حراست میں لی جانے والی حیات بی بی دختر احمد کو بھی بعد ازاں خضدار میں رہا کیے جانے کی تصدیق ہوئی ہے۔

گوادر کے رہائشی نظام ولد حمید، جو 8 دسمبر 2025 سے لاپتہ تھے، 20 مارچ 2026 کو بازیاب ہوئے۔

اسی طرح خضدار سے تعلق رکھنے والے یاسر احمد ولد گل محمد (لاپتہ: 5 جون 2023) اور نوید احمد ولد عبدالراشد (لاپتہ: 29 اپریل 2023) کو بھی 18 مارچ 2026 کو کوئٹہ میں رہا کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

سوراب کے مختلف علاقوں سے 28 مارچ 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے چار افرادوحید بلوچ ولد محمد توبل، اکرم بلوچ ولد حاجی عالم خان، ستار بلوچ ولد عبدالخالق اور عبدالغفار بلوچ ولد عبدالخالق کو تین روز بعد 31 مارچ کو مین آر سی ڈی روڈ، سوراب پر چھوڑ دیا گیا۔

مقامی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکنے کے بجائے پھیل رہا ہے، جبکہ لواحقین کی جانب سے احتجاجی اپیلیں اور بازیابی کے مطالبات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

کارکنان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو قانونی فورمز کے سامنے پیش کیا جائے۔

Share This Article