ایران جنگ: امریکی آرمی چیف ریٹائرڈ،اٹارنی جنرل تبدیل ،متعدد سینیئر افسران برطرف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی اے جارج کی فوری ریٹائرمنٹ کی تصدیق کر دی ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنرل جارج امریکی فوج کے 41ویں چیف آف اسٹاف کے طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق محکمہ دفاع ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کا شکر گزار ہے۔

جنرل رینڈی جارج کی مدتِ ملازمت سنہ 2027 تک تھی، تاہم ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی امریکی میڈیا میں ان کے مستقبل کے حوالے سے اطلاعات گردش کر رہی تھیں۔

بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جنرل جارج کو عہدہ چھوڑنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ایک ذریعے کے مطابق سیکریٹری دفاع چاہتے تھے کہ فوج کی قیادت ایسے افسر کے پاس ہو جو امریکی فوج کے لیے صدر ٹرمپ کے وژن پر عملدرآمد کرے۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق سیکریٹری دفاع اب تک ایک درجن سے زائد سینیئر فوجی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جس کے بعد امریکی فوجی قیادت میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی دوران امریکی انتظامیہ میں ایک اور بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ بونڈی صدر ٹرمپ کی دیرینہ اتحادی سمجھی جاتی ہیں اور ان کی انتظامیہ کی مضبوط حمایتی رہی ہیں۔

ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نجی شعبے میں ایک نئے کردار کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔ بونڈی کے دور میں محکمہ انصاف اکثر جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں اور تحقیقات کے باعث زیرِ بحث رہا۔

بونڈی کی جگہ ان کے سابق نائب ٹوڈ بلانش ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ وہ حالیہ ہفتوں میں انتظامیہ سے ہٹائے جانے والی دوسری اعلیٰ عہدیدار ہیں۔ اس سے قبل مارچ میں کرسٹی نوم کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے سربراہ کے طور پر ہٹایا گیا تھا۔

پام بونڈی کو حالیہ کانگریسی سماعت میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں ماحول تلخ ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے آخری وقت تک ان کا دفاع کیا تھا۔

فوجی اور سول قیادت میں ان تیز رفتار تبدیلیوں نے واشنگٹن میں انتظامی پالیسیوں اور مستقبل کی سمت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Share This Article