بلوچستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پرتشدد حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس پر مسلح افراد نے ایگل اسکواڈ کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل محمد نور اور کانسٹیبل محمد ایوب کے نام سے ہوئی ہے۔
حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
اسی دوران، کوئٹہ مغربی بائی پاس اختر آباد کے قریب نامعلوم افراد نے گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ دھماکے کے باعث شہر کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی، جس سے گھریلو صارفین اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
حکام کے مطابق مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے، تاہم مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئٹہ میں نہ صرف پولیس بلکہ پاکستانی فوج، ملٹری انٹیلی جنس آفس، ریلوے ٹریکس، پلوں اور گیس پائپ لائنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، دالبندین، واشک، سبی، نصیر آباد، جھل مگسی اور کیچ میں بھی متعدد حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
حکام نے ان حملوں میں فورسز اہلکاروں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور ریلوے ٹریکس کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کی ہے۔
بلوچستان میں گزشتہ روز سے جاری حملوں کی یہ لہر سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر سرچ آپریشنز جاری ہیں، جبکہ حساس تنصیبات کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔