بلوچستان میں مربوط حملوں کی نئی لہر: 13 ہلاک، 20 زخمی، 10 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں گزشتہ شب اور اتوار کے روز مختلف اضلاع میں مسلح افراد کی جانب سے مربوط اور یکے بعد دیگرے حملوں کی نئی لہر سامنے آئی ہے، جن میں سیکیورٹی فورسز، شاہراہیں، ریلوے ٹریک اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام کے مطابق مجموعی طور پر 13 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں، جن میں 6 حملہ آور، 4 سیکیورٹی اہلکار اور ایک شہری شامل ہے۔بلوچستان کے 10 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر ویلج ایڈ کے قریب سیکورٹی فورسز کے کیمپ پر نامعلوم افراد نے انڈر بیرل گرینیڈ اور فائرنگ سے حملہ کیا۔

پولیس کے مطابق حملے میں ایک شہری گل محمد ہلاک جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے، جن میں سیکیورٹی فورسز کے چار اہلکار اور ایک افسر بھی شامل ہیں۔

زخمی شہریوں میں فہم، عزیز اللہ، میر احمد، داؤد، حسنین، بہروز، تنویر، سہیل، عبدالمالک، شکیل، نور بخش اور عمیر شامل ہیں۔

ریسکیو ٹیموں نے لاش اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جبکہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

نوشکی کے علاقوں احمدوالد اور گومازی کے قریب نامعلوم افراد نے دو مختلف مقامات پر ریلوے ٹریک کو دھماکوں سے تباہ کر دیا۔

واقعے کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔

ڈیرہ مراد جمالی کے قریب پنجاب جانے والی ہائی ٹینشن لائن کے مرکزی ٹاورز کو دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دو ٹاور مکمل طور پر زمین بوس جبکہ پانچ ٹاور مجموعی طور پر متاثر ہوئے۔

اس سے قبل سبی کے قریب بھی تین ٹاور تباہ کیے گئے تھے۔

متاثرہ علاقوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں سرگرم رہی ہیں اور ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہیں، تاہم تازہ حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

مربوط حملوں کے بعد بلوچستان حکام نے 10 اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی اجتماعات، غیر ضروری نقل و حرکت اور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ حملوں کا مقصد بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور سرچ آپریشنز مزید تیز کر دیے گئے ہیں۔

Share This Article