بلوچستان میں مسلح کارروائیاں جاری، 14 مقامات پرریلوے ٹریکس تباہ، پولیس تھانے پر حملہ، ایک اہلکارہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں گذشتہ روز سے مسلح افراد کے مربوط حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور ریلوے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، خاران، دالبندین، واشک، سبی، نصیر آباد، جھل مگسی اور کیچ سمیت متعدد اضلاع میں حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے چودہ مختلف مقامات پر ریلوے ٹریکس اور پلوں کو دھماکوں سے تباہ کیا، جس کے باعث بلوچستان بھر میں ٹرینوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہوگئی ہے۔ کوئٹہ کے تیرہ میل کے مقام پر پانچ، ایریگیشن کالونی کے قریب چار جبکہ نوشکی کے بٹو لانڈی، احمد وال اور گومازی کے علاقوں میں پانچ مقامات پر ریلوے لائن کو نشانہ بنایا گیا۔

حکام نے مختلف مقامات پر حملوں اور پاکستانی فوج و پولیس اہلکاروں کے جانی نقصانات کی بھی تصدیق کی ہے، تاہم مجموعی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔

اسی سلسلے میں جھل مگسی کے علاقے کوٹڑہ میں واقع تھانے پر نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایس ایچ او میر حسن سپرہ سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں دو پولیس اہلکار اور دو شہری شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص پولیس کے ہمراہ مسلح تھا، تاہم اس کی شناخت کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

بلوچستان کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے یہ حملے سیکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں، جبکہ حکام نے تحقیقات اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article