بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیوم رائٹس واچ نے کہا ہے کہ 16 مارچ کوافغانستان کے دارلحکومت کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر کیا گیا مبینہ پاکستانی فضائی حملہ غیر قانونی تھا اور یہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج جاری تھا، اور اس کارروائی نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کریں اور اگر کسی بھی سطح پر خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
تنظیم کے مطابق، مسلح تنازعات کے دوران شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مؤثر تحقیقات کو یقینی بنائیں۔
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس حملے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی گئی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف کی جاتی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور سرحد پار کارروائیوں پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کے اقدامات پر مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔