افغانستان میں ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملہ جنگی جرم تھا، ہیومن رائٹس واچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیوم رائٹس واچ نے کہا ہے کہ 16 مارچ کوافغانستان کے دارلحکومت کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر کیا گیا مبینہ پاکستانی فضائی حملہ غیر قانونی تھا اور یہ ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں منشیات کے عادی افراد کا علاج جاری تھا، اور اس کارروائی نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کریں اور اگر کسی بھی سطح پر خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

تنظیم کے مطابق، مسلح تنازعات کے دوران شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، اور ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ ایسے واقعات کی مؤثر تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اس حملے میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی گئی ہے، جبکہ حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف کی جاتی ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں سیکیورٹی صورتحال اور سرحد پار کارروائیوں پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس نوعیت کے اقدامات پر مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔

Share This Article